سورج نکلتے ہی منیٰ جانے کے لیے پیدل کا راستہ اختیار کیا، گرمی کی شدت اور ناسازی طبع نے ہلکان کیا ہوا تھا، بیلٹ کہیں گر گئی اور میں کل رقم سے محروم ہو گیا۔
حج کا سفر اور مشکلات
مصنف:رانا امیر احمد خاں
قسط:282
منیٰ کی جانب سفر
اگلی صبح 10 ذی الحج کو سورج نکلتے ہی میں نے بھی بیشتر حاجی صاحبان کے ساتھ منیٰ جانے کے لیے پیدل کا راستہ اختیار کیا۔ گرمی کی شدت، ناسازی طبع، اور کھانسی نے مجھے ہلکان کیا ہوا تھا۔ یہ 3 کلومیٹر کا فاصلہ پونے گھنٹے میں ہانپ ہانپ کر طے ہوا۔ اس دوران میری بیلٹ کہیں راستے میں گر گئی اور میں اپنی کْل رقم سے محروم ہو گیا۔
پہلی طبی امداد
منیٰ پہنچ کر سب سے پہلے میں نے اپنے ماموں زاد بھائی راؤ محمد اسلم خاں کو اپنی رقم کے گم ہونے کے بارے میں بتایا۔ ان کی پیشکش پر میں نے 5 صد سعودی ریال بطور قرض حاصل کیے تاکہ میں بقیہ 15 روز آرام سے گزار سکوں۔ منیٰ خیمے میں کچھ دیر آرام کے باوجود نماز ظہر کی ادائیگی کے دوران مجھے پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ مجھے چکر آ رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے فوراً ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔ سعودی ہسپتال تقریباً 200 گز کے فاصلے پر تھا، جہاں میں پیدل گیا۔
ڈاکٹر کی مدد
خوش قسمتی سے عرب لیڈی ڈاکٹر انگریزی سمجھتی تھی۔ میں نے اسے اپنی کیفیت بتائی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے میرا بلڈ پریشر اور ٹیمپریچر چیک کیا اور اس کے بعد ہدایت کی کہ مجھے فوراً ڈرپ لگائی جائے۔ مجھے بروقت طبی امداد مل گئی، کیونکہ ڈی ہائیڈریشن کے باعث میرا بلڈ پریشر انتہائی کم ہو چکا تھا۔
کنکریاں مارتے ہوئے
ڈرپ لگنے اور ادویات کے استعمال کے بعد چند گھنٹوں میں میری طبیعت بحال ہوئی۔ رات نو بجے میں نے منیٰ سے جمرات بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے لیے جانے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً 10 بجے رات میں نے کنکریاں مارنے کا فریضہ ادا کیا۔ اْسی صبح ایک بڑا حادثہ ہوا تھا جس میں کئی حاجی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔
دو دن کی صحت کی دیکھ بھال
11 اور 12 ذی الحج کو تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا فریضہ میرے ماموں زاد بھائی نے خود ہی اپنے ذمہ لے لیا تاکہ میں ہسپتال جا سکوں۔ میں نے دونوں دن کے لیے اپنے حصے کی کنکریاں راؤ اسلم خاں کے حوالے کیں اور خود دونوں دن ہسپتال جا کر چیک اپ کروایا۔ 12 ذی الحج کو منیٰ سے بذریعہ ویگن حرم کعبہ جا کر طواف کیا اور اگلے دن اپنے ہوٹل بلڈنگ نمبر 717 عزیزیہ چلا گیا۔
اللہ کا شکر
عزیزیہ واپس آنے کے بعد پاکستان واپسی میں ابھی پندرہ روز باقی تھے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ناسازی طبع کے باوجود حج کے تمام ارکان اور واجبات اپنے پاؤں پر چل کر ادا کرنے کی توفیق ملی۔ اگلے دو دنوں میں قریبی پاکستانی حج میشن ہسپتال میں علاج کے بعد میری کھانسی جاتی رہی اور میں نے خود کو کافی حد تک فٹ محسوس کیا۔
نفلی طواف
اگلے بارہ روز اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں روزانہ حرم شریف جا کر نفلی طواف کر سکوں۔ میں نے پندرہ نفلی طواف اپنے عزیزوں کے نام کیے اور ان کے لیے دعائیں کرنے کا موقع ملا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








