فلسطین فوج بھیجنے کے معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا، خواجہ آصف
اسلام آباد میں وزیر دفاع کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بتایا ہے کہ فلسطین کے دو ریاستی حل پر ساری دنیا متفق ہے، فوج بھیجنے کے معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ
غزہ میں پاکستان کا کردار
جیونیوز کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے شہباز شریف کو غزہ پیس میں شمولیت کی دعوت اچھی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے مستقبل کے آگے جو بھی روڈ میپ تیار ہو گا، اس میں پاکستان کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معاونِ خصوصی وزیراعلیٰ راشد نصراللہ کی گلوکار سردار جسبیر سنگھ سے ملاقات کی، مالی امداد کا چیک پیش کیا۔
فلسطینی بھائیوں کی حمایت
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست کا جو دو ریاستی حل موجود ہے، اس پر ساری دنیا متفق ہے، اللّٰہ تعالیٰ کی ذات کی طرف سے پاکستان کو ایک سنہری موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ موقع مل رہا ہے کہ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کی آزادی، نجات اور حقوق کی آواز اٹھائے۔ ان شاء اللّٰہ وزیر اعظم پاکستان فلسطین کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل سید امداد حسین گردیزی کو دشمن کو ناکام بنانے پر مبارکباد
فوج بھیجنے کے معاملے پر خیالات
خواجہ محمد آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی طرف سے فوج بھیجنے کے معاملے پر ابھی کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہوں گا۔ کسی ملک کو دوسرے ممالک میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی اور (ن )لیگ حکومت کا حصہ، وہی فیصلہ کرتے ہیں جو ملکی مفاد میں ہو: احسن اقبال
ایران کے ساتھ تعلقات
انہوں نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، ہمارے اس کے ساتھ قابل رشک تعلقات ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں، جس کے خلاف کسی کے عزائم نہیں ہیں جو کسی کو تھریٹ کرتے ہوں۔
دفاعی معاہدے کا مستقبل
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی تمام حمایت اسی بات کے لیے ہے کہ ایران کو محفوظ ہونا چاہیے، اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس سے سب کو تھریٹ ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاعی معاہدے میں کسی اور ملک کی شمولیت کا فیصلہ مل کر کریں گے، دفاعی معاہدے میں ترکیہ یا کوئی اور ملک شامل ہو سکتا ہے۔ اسلامی ممالک کو اپنا دفاع کرنے کے لیے ایک وسیع دفاعی معاہدہ کرنا چاہیے۔








