بھارت میں شخص نے 29 سالہ خاتون سافٹ ویئر انجینئر کو شادی کا دھوکہ دے کر ڈیڑھ کروڑ روپے لوٹ لیے۔
چونکا دینے والا فراڈ
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 29 سالہ سافٹ ویئر انجینئر خاتون کو شادی اور کاروباری شراکت داری کا جھانسہ دے کر 1.53 کروڑ روپے سے زائد کی رقم سے مبینہ طور پر دھوکہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ظہران ممدانی نے دفتر سنبھالنے کے فوری بعد سابق میئر کے تمام فیصلے منسوخ کر دیئے
ملزم کی شناخت اور دھوکہ دہی کا طریقہ
پولیس کے مطابق ملزم پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کی بیوی سمیت اہلِ خانہ اس منظم فراڈ میں شامل تھے۔ متاثرہ خاتون نویہ شری جو وائٹ فیلڈ کی رہائشی ہیں، کی ملاقات مارچ 2024 میں اوکّلیگا میٹرمنیل ویب سائٹ کے ذریعے وجے راج سے ہوئی۔ ملزم نے خود کو VRG انٹرپرائزز کا مالک بتایا اور دعویٰ کیا کہ اس کے پاس کروڑوں روپے مالیت کے کاروبار، گاڑیاں، زمین اور بنگلورو کے پوش علاقوں راجاجی نگر اور سداشیو نگر میں جائیدادیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے تجارت کی بندش، افغان معیشت کو ناقابل تلافی نقصان
دھوکہ دہی میں مزید پیچیدگی
اس نے 2019 کے ایک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کیس سے متعلق ضمانتی احکامات بھی دکھائے اور اپنے اثاثوں کی مالیت 715 کروڑ روپے بتا کر متاثرہ خاتون کا اعتماد حاصل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے نویہ شری سے شادی کا وعدہ کیا اور اپریل 2024 میں بینک اکاؤنٹ کے مسئلے کا بہانہ بنا کر ابتدا میں 15 ہزار روپے ادھار لیے۔ بعد ازاں اس نے کاروبار میں سرمایہ کاری کے نام پر متاثرہ خاتون، اس کے دوستوں اور اہلِ خانہ سے بڑی رقوم حاصل کیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل سیونگز نے 750 روپے کے پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان کر دیا
اعتماد کی بنیاد اور معاہدات
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے اپنے والد جو خود کو ریٹائرڈ تحصیلدار ظاہر کرتے تھے اور دیگر اہلِ خانہ کے ذریعے متاثرہ خاندان کا اعتماد مزید مضبوط کیا۔ ملزم کے والد نے مبینہ طور پر VRG انٹرپرائزز کے چیک جاری کر کے رقم کی واپسی کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: آلو کی گرتی قیمتیں، کاشتکار پریشان، گھاٹے کی وجہ سے نئی فصل لگانا بھی نا ممکن ہو گیا
سرمایہ کاری کا دھوکہ
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون کے دوستوں نے مختلف مراحل میں 66 لاکھ اور 23 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی، جبکہ بعد میں ملزم نے عدالتی کیس کا حوالہ دے کر اپنے بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے کا دعویٰ کیا اور عدالتی دستاویزات دکھا کر متاثرہ خاتون کے والدین سے بھی تقریباً 30 لاکھ روپے حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھٹو سے زرداری تک پراپیگنڈا کیا جاتا رہا، ہم یہ آگ عبور کرکے آئے ہیں، گورنر پنجاب
خاندانی رقوم کی فراہمی
دسمبر 2024 سے فروری 2025 کے دوران متاثرہ کے والد نے 10.5 لاکھ روپے اور والدہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کی رقم سمیت 18 لاکھ روپے دیے۔ اس کے علاوہ زیورات گروی رکھ کر 10 لاکھ روپے اور بہن بھائیوں سے 5 لاکھ روپے بھی لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سکول کے بعد ایمبولینس، محمد شیراز نے گاؤں کے لوگوں کے لیے خدمت کی نئی مثال قائم کر دی
حقیقت کا انکشاف
جب متاثرہ خاتون رقم کی واپسی کے لیے ملزم کے گھر پہنچی تو انکشاف ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور جس خاتون کو اس نے اپنی بہن بتایا تھا، وہ دراصل اس کی بیوی ہے جس سے اس کی شادی کو تین سال ہو چکے ہیں اور ان کا ایک بچہ بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افواجِ پاکستان دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں: سیکیورٹی ذرائع
نقصان اور دھمکیاں
شکایت کے مطابق ملزم نے مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے مجموعی طور پر 1 کروڑ 75 لاکھ 66 ہزار 890 روپے وصول کیے، جن میں سے صرف 22 لاکھ 51 ہزار 800 روپے واپس کیے گئے، جبکہ 1 کروڑ 53 لاکھ 15 ہزار 90 روپے تاحال ادا نہیں کیے گئے۔ رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنے پر متاثرہ خاتون اور اس کے دوستوں کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
پولیس کی کارروائی
پولیس نے ملزم وجے راج، اس کے والد اور بیوی کے خلاف دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور مجرمانہ دھمکیوں کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔








