دہشتگردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی، خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی؟ وزیر مملکت طلال چوہدری قومی اسمبلی میں کھل کر بول پڑے
خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کی عدم موجودگی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں کھل کر خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی نہ بنائے جانے پر سوال اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی
دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ضروری
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں سے ہمدردی کرنا ناقابل قبول ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی کی پالیسیوں اور صوبائی حکومت کی ناکامی کی بدولت خیبرپختونخوا جل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے غیر قانونی ڈیجیٹل مواد پھیلانے پر 10لاکھ سے زائد ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کردیئے
صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کا کردار مشکوک ہے، کیونکہ گزشتہ 14 برسوں سے ایک ہی جماعت حکمرانی کر رہی ہے۔ صوبے میں روزانہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ڈبل وکٹ میچ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی
سی ٹی ڈی کی عدم تشکیل کے بارے میں سوالات
طلال چوہدری نے اپنے خطاب میں پوچھا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی، اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کو صفر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی کھیلوں میں مشغول رہی، جس کی وجہ سے پورا ملک دہشت گردی کے اثرات کا شکار ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا، عوام اور ہمیں معلوم ہے پارٹی میں غدار کون ہے: علیمہ خان
کاؤنٹر ٹیررازم میں شرکت کی اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو کس نے روکا کہ وہ کاؤنٹر ٹیررازم میں فوج کے ساتھ تعاون نہ کرے۔ جب انہیں اجلاس میں بلایا جاتا ہے تو وہ کیوں حاضر نہیں ہوتے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈرائیو میں 22 نکات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ نے ایران امریکا کشیدگی کے باعث قطر میں لڑاکا طیارے تعینات کر دیے
نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق
پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو بنائی گئی تھی، جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔
این ایف سی کے حوالے سے معلومات
انہوں نے این ایف سی کے متعلق بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختونخوا کو 5867 ارب روپے دیئے جا چکے ہیں۔








