دہشتگردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی، خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی؟ وزیر مملکت طلال چوہدری قومی اسمبلی میں کھل کر بول پڑے
خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کی عدم موجودگی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں کھل کر خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی نہ بنائے جانے پر سوال اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: ریسکیو 1122 کا اہلکار لوگوں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہو گیا، 2 دن بعد باپ بننے والا تھا
دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ضروری
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں سے ہمدردی کرنا ناقابل قبول ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی کی پالیسیوں اور صوبائی حکومت کی ناکامی کی بدولت خیبرپختونخوا جل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اس بار اسلام آباد میں قانون ہاتھ میں لینے والے کسی شخص کو واپس نہیں جانے دیں گے: وزیر داخلہ
صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کا کردار مشکوک ہے، کیونکہ گزشتہ 14 برسوں سے ایک ہی جماعت حکمرانی کر رہی ہے۔ صوبے میں روزانہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ میں بیوی کو قتل کرنے والے شوہر کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کردی
سی ٹی ڈی کی عدم تشکیل کے بارے میں سوالات
طلال چوہدری نے اپنے خطاب میں پوچھا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی، اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کو صفر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی کھیلوں میں مشغول رہی، جس کی وجہ سے پورا ملک دہشت گردی کے اثرات کا شکار ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ایران نے امریکی ائیربیس پر حملے سے پہلے قطر کو آگاہ کیا تھا۔۔؟ نیویارک ٹائمز نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا
کاؤنٹر ٹیررازم میں شرکت کی اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو کس نے روکا کہ وہ کاؤنٹر ٹیررازم میں فوج کے ساتھ تعاون نہ کرے۔ جب انہیں اجلاس میں بلایا جاتا ہے تو وہ کیوں حاضر نہیں ہوتے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈرائیو میں 22 نکات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا لاہور میں شیر حملے کے زخمیوں کو فی کس پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان
نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق
پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو بنائی گئی تھی، جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔
این ایف سی کے حوالے سے معلومات
انہوں نے این ایف سی کے متعلق بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختونخوا کو 5867 ارب روپے دیئے جا چکے ہیں۔








