فرانسیسی صدر میکرون زیادہ عرصے اپنے عہدے پر نہیں رہیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ کا میکرون کے مستقبل پر تبصرہ
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون زیادہ عرصے اپنے عہدے پر نہیں رہیں گے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی امریکی کوششوں کے باعث یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے صدر شی جن پھنگ کا ملائیشیا کا دورہ ، ملائیشیا کے بادشاہ سلطان ابراہیم سلطان سکندر سے ملاقات
یورپ میں بے چینی کی لہریں
اس معاملے پر یورپ میں بے چینی پھیل گئی ہے جبکہ مالیاتی منڈیوں میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس معاملے پر بیشتر یورپی رہنماؤں کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے خلاف اپنے مضبوط ترین تجارتی اقدامات کو فعال کرے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ کے 11 ویں ایڈیشن کے لیے کھلاڑیوں کی نیلامی 11 فروری کو کرنے کا اعلان
ٹرمپ کا سخت تجویز
ڈونلڈ ٹرمپ فرانس کے اس فیصلے پر بھی برہم دکھائی دیے کہ وہ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے سے ہچکچا رہا ہے۔ میکرون نے اس بورڈ کے اقوامِ متحدہ کے کردار پر ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات عطاءاللّٰہ تارڑ نے افغان طالبان رجیم کے نقصانات کے اعداد و شمار جاری کردیئے۔
میکرون کا موقف اور ٹرمپ کا ردعمل
جب ٹرمپ سے میکرون کے اس مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، ’کیا انہوں نے واقعی ایسا کہا ہے؟ خیر، ویسے بھی انہیں کوئی نہیں چاہتا کیونکہ وہ بہت جلد اقتدار سے باہر ہو جائیں گے‘۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کھلی کچہری کا انعقاد
فرنچ وائن پر 200 فیصد ٹیرف
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں فرنچ وائن اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف لگا دوں گا، پھر وہ (میکرون) شامل ہو جائیں گے اگرچہ ان کی شمولیت ضروری نہیں ہے‘۔ اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر میکرون کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو کا اسکرین شاٹ شیئر کر دیا۔
میکرون کی دوستی اور جی سیون کی میزبانی
اس گفتگو میں میکرون نے لکھا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ٹرمپ گرین لینڈ کے حوالے سے کیا کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے روس سمیت دیگر ممالک کو مدعو کرتے ہوئے جی سیون اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کی تھی۔ اس پیغام میں میکرون نے ٹرمپ کو اپنا ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ شام کے معاملے پر مکمل طور پر ان کے ساتھ متفق ہیں اور ایران کے حوالے سے بھی مل کر ’بہت کچھ‘ کیا جا سکتا ہے۔








