فرانسیسی صدر میکرون زیادہ عرصے اپنے عہدے پر نہیں رہیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ کا میکرون کے مستقبل پر تبصرہ
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون زیادہ عرصے اپنے عہدے پر نہیں رہیں گے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی امریکی کوششوں کے باعث یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کا 16 سالہ نوجوان کچے کے ڈاکوؤں سے ہنی ٹریپ، تاوان کا مطالبہ
یورپ میں بے چینی کی لہریں
اس معاملے پر یورپ میں بے چینی پھیل گئی ہے جبکہ مالیاتی منڈیوں میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس معاملے پر بیشتر یورپی رہنماؤں کے مقابلے میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ امریکا کے خلاف اپنے مضبوط ترین تجارتی اقدامات کو فعال کرے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر نے سی ڈی اے ترمیمی آرڈیننس 2025 جاری کر دیا
ٹرمپ کا سخت تجویز
ڈونلڈ ٹرمپ فرانس کے اس فیصلے پر بھی برہم دکھائی دیے کہ وہ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے سے ہچکچا رہا ہے۔ میکرون نے اس بورڈ کے اقوامِ متحدہ کے کردار پر ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دو دہشتگرد سوات میں سفارتکاروں کے قافلے پر حملے میں مارے گئے
میکرون کا موقف اور ٹرمپ کا ردعمل
جب ٹرمپ سے میکرون کے اس مؤقف کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، ’کیا انہوں نے واقعی ایسا کہا ہے؟ خیر، ویسے بھی انہیں کوئی نہیں چاہتا کیونکہ وہ بہت جلد اقتدار سے باہر ہو جائیں گے‘۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا 11 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
فرنچ وائن پر 200 فیصد ٹیرف
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’میں فرنچ وائن اور شیمپین پر 200 فیصد ٹیرف لگا دوں گا، پھر وہ (میکرون) شامل ہو جائیں گے اگرچہ ان کی شمولیت ضروری نہیں ہے‘۔ اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر میکرون کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو کا اسکرین شاٹ شیئر کر دیا۔
میکرون کی دوستی اور جی سیون کی میزبانی
اس گفتگو میں میکرون نے لکھا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ ٹرمپ گرین لینڈ کے حوالے سے کیا کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے روس سمیت دیگر ممالک کو مدعو کرتے ہوئے جی سیون اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھی کی تھی۔ اس پیغام میں میکرون نے ٹرمپ کو اپنا ’دوست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ شام کے معاملے پر مکمل طور پر ان کے ساتھ متفق ہیں اور ایران کے حوالے سے بھی مل کر ’بہت کچھ‘ کیا جا سکتا ہے۔








