خواجہ آصف نے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی نہ ہونے پر 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا قرار دے دیا
سانحہ گل پلازہ پر وزیر دفاع کا اظہار افسوس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی نہ ہونے پر 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور پاکستان کا پہلا گرین بلڈنگ کوڈ منظور کر لیا
قومی اسمبلی میں خطاب
قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے سارے اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل ہوگئے ہیں، اتفاق رائے تھا کہ لوکل گورنمنٹ کو اختیارات منتقل کیے جائیں۔ گل پلازہ میں آتشزدگی کا یہ واقعہ ہمارے سسٹم کی تباہی کی نشانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی دلچسپ اندرونی کہانی سامنے آئی
ماضی کے حکمرانوں کا ذکر
خواجہ آصف نے اعتراف کیا کہ آمر ایوب خان، آمر ضیاء الحق اور آمر پرویز مشرف کے ادوار میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے گئے۔ ہماری جمہوری حکومتوں نے لوکل گورنمنٹ الیکشن نہیں کرائے، بلکہ اگر ان انتخابات کا شیڈول بھی آیا تو ہم نے مختلف بہانے بنا ڈالے۔
یہ بھی پڑھیں: دفتر خارجہ میں مینا بازار سج گیا، خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے سرگرم ہیں: اسحاق ڈار
لوکل گورنمنٹ کی اہمیت
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ چین میں موجودہ صدر ایک سیاسی عمل سے ابھر کر سامنے آئے، لوکل گورنمنٹ سے لیڈرشپ پیدا ہوتی ہے اور ایسے عمل سے آگے بڑھتی ہے۔ آگ کا واقعہ ہمارے سسٹم کی تباہی کی نشانی ہے، ملک میں عوام کو مضبوط کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا۔ خواہش ہے کہ ایک مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ہو تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔ ایک ایسا نظام تعلیم ہونا چاہیے کہ وفاق سمیت صوبوں کو بھی نئی نسل پہچانے، یکساں نظام تعلیم ایک قوم بناتا ہے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
صوبائی سطح پر اختیارات کی ضرورت
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نظام اب بننا چاہیے تاکہ صوبے سے تحصیل اور وارڈ کی سطح تک اختیارات جائیں، اگر یہی رہا تو پھر آخر میں وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ ہی آگ بجھانے کے لیے آئے گی۔ پاکستان کے استحکام کے لیے اب فیصلے کرنا ہوں گے۔








