طلال چودھری کا بیان حقائق سے زیادہ سیاسی الزام تراشی اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کمزور کوشش ہے،پی ٹی آئی۔
پاکستان تحریک انصاف کا مؤثر جواب
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے طلال چودھری کے بیان کا دوٹوک اور مؤثر جواب
یہ بھی پڑھیں: بیوروکریسی کے جنسی درندے۔۔۔قسط نمبر -1
طلال چودھری کا بیان
پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کی جانب سے ایکس اکاؤنٹ جاری بیان میں کہا گیا کہ طلال چودھری کا قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان حقائق سے زیادہ سیاسی الزام تراشی اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کمزور کوشش ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے کو پی ٹی آئی سے جوڑنا نہ صرف تاریخی حقائق کے منافی ہے بلکہ ریاستی ذمہ داریوں سے دانستہ چشم پوشی بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بونداباندی، لاہور سمیت مختلف شہروں میں بارش کی پیشگوئی
دہشت گردی کا قومی مسئلہ
سب سے پہلے یہ واضح کیا جانا ضروری ہے کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے، جس کا مقابلہ صرف صوبوں پر الزام دھر کر نہیں کیا جا سکتا۔ نیشنل ایکشن پلان پر اتفاقِ رائے پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں ہی ممکن ہوا، اور اسی دور میں دہشت گردی کے خلاف عملی اور مؤثر اقدامات کیے گئے، جن کے نتائج پوری دنیا نے تسلیم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف کمشنر پاکستان بوائز سکاؤٹس ایسوسی ایشن سینٹر(ر) امان اللہ کنرانی نے حلف اٹھا لیا
خیبرپختونخوا کے حالات
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو کبھی افغانستان سے جوڑا جا رہا ہے اور کبھی دہشت گردوں سے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کی گئی حکومت عوامی مینڈیٹ سے خوفزدہ ہو کر کردار کشی اور بہتان تراشی پر اتر آئی ہے۔ یہ کہنا کہ خیبرپختونخوا جل رہا ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔ خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جس نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ پولیس، سی ٹی ڈی، اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ کر ملک کا دفاع کیا۔ اگر آج دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ وفاقی سطح پر ناقص پالیسی سازی ہے نہ کہ صوبائی حکومت کی نالائقی.
ٹویٹر پر بیان
*پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے طلال چوہدری کے بیان کا دوٹوک اور مؤثر جواب:*
طلال چوہدری کا قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان حقائق سے زیادہ سیاسی الزام تراشی اور اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کمزور کوشش ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے کو پی ٹی آئی سے جوڑنا نہ صرف تاریخی…— Sheikh Waqas Akram (@SheikhWaqqas) January 20, 2026








