پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہو کر بیرون ملک فروخت ہونے کا انکشاف
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ڈیٹا چوری کا انکشاف
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ میں پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہو کر بیرون ملک استعمال ہونے اور ویب پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹر افنان اللہ نے وکیل کے ساتھ جعل سازی کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں اٹھاتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل آفس کے کنسلٹنٹ کا جعلی پاسپورٹ استعمال کرکے جعل ساز 2023 میں بھارت پہنچ گیا، متاثرہ وکیل یہاں موجود ہے، اس سے پوچھ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں قائدِ ایوان کی 6 سال میں سب سے کم 28 فیصد حاضری رہی: پلڈاٹ
نادرا سے شناخت کی چوری
سینیٹر پلوشہ خان نے پوچھا کہ نادرا سے شناخت کیسے چوری ہو گئی؟ ڈیٹا چوری کیسے ہوا؟ ڈی جی پاسپورٹس نے کہا کہ شہری اپنے پاسپورٹس اور شناختی کارڈ کے کوائف واٹس ایپ پر شئیر کرتے ہیں، وہاں سے لیک ہونا ممکن ہے۔
ڈیٹا کی دستیابی اور اہمیت
سینیٹر افنان کا کہنا تھا کہ نادرا، بینک اور ایف بی آر کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے، کسی بھی شہری کا ڈیٹا خریدنا ہو تو 500 روپے میں مل جاتا ہے۔ محکمے کے اندر سے کسی کے ملوث ہوئے بغیر اس لیول پر ڈیٹا چوری ممکن نہیں۔








