22 اگست سے اب تک ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو جو رعایت اور التوا دیا گیا وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا، حنا پرویزبٹ
لاہور نیوز
لیگی رہنما اور کن اسمبلی حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ 22 اگست سے اب تک ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو جو رعایت اور التوا دیا گیا، وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کردیا
قانونی نرمی یا انتقام؟
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے لکھا کہ پیکا کی سنگین دفعات کے باوجود گرفتاری کے بجائے صرف 'شاملِ تفتیش' کرنا بذاتِ خود عدالتی نرمی کی مثال ہے، نہ کہ انتقام کی۔ بار بار غیر حاضری، وارنٹس کے باوجود فوری منسوخی اور مچلکوں کی بحالی ظاہر کرتی ہے کہ عدالت نے قانون نہیں بلکہ تحمل کو ترجیح دی۔
یہ بھی پڑھیں: منہاج ویمن لیگ بارسلونا کے زیر اہتمام محفل میلاد مصطفی ﷺ، علامہ غلام عربی کا خصوصی خطاب
عدالت کے فیصلے کی حکمت عملی
وکیل کی عدم دستیابی، وکیل کی تبدیلی، اور عدالت کو چیلنج کرنے کے بہانے یہ سب قانونی حق نہیں بلکہ ٹرائل کو سبوتاژ کرنے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے۔
تین پاٹوں کا ذکر
22 اگست سے اب تک ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو جو رعایت اور التوا دیا گیا، وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا۔PECA کی سنگین دفعات کے باوجود گرفتاری کے بجائے صرف “شاملِ تفتیش” کرنا بذاتِ خود عدالتی نرمی کی مثال ہے، نہ کہ انتقام کی۔بار بار غیر حاضری، وارنٹس…
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) January 20, 2026








