حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کا بھانڈا پھوٹ گیا، ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہونے کا انکشاف
تعلیمی ایمرجنسی کی حقیقت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی حالیہ رپورٹ میں حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کا بھانڈا پھوڑ دیا گیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں تعلیم کے حصول پر مجموعی اخراجات 500 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، مگر اس کا بڑا بوجھ عام پاکستانی خاندان اٹھا رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے ابھی بھی اسکول سے باہر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیری آواز میں ڈر بولتا ہے۔۔۔
گھریلو اخراجات کا بڑھتا ہوا بوجھ
ایکسپریس نیوز کے مطابق، انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار گھریلو اخراجات حکومتی تعلیمی بجٹ سے بڑھ گئے ہیں۔ پندرھویں ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق، آج بھی ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنس تبدیل کروا کر لڑکی بننے والی کرکٹر نے بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی سے بڑا مطالبہ کر دیا
اخراجات کا تجزیہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم کے حصول کے لیے عوام 280 ارب روپے جبکہ حکومتی سرمایہ کاری 220 ارب روپے رہ گئی ہے۔ یعنی تعلیم کا 56 فیصد بوجھ عوام اور صرف 44 فیصد ریاست اٹھا رہی ہے۔ والدین ایک ہزار 310 ارب روپے نجی اسکولوں کی فیس کے لیے، 613 ارب روپے کوچنگ اور ٹیوشن کیلیے، اور 878 ارب روپے دیگر ذاتی تعلیمی اخراجات پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان امن کے لئے تیار، بھارت کو ایک قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے: بلاول بھٹو
مساواتی بحران کی نشانی
پالیسی ڈائیلاگ میں آئی سیپس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان ہمایوں نے اس مسئلے کی سنگینی پر روشنی ڈالی ہے کہ جب گھریلو اخراجات تعلیم پر سرکاری سرمایہ کاری سے بڑھ جائیں تو یہ ایک سنجیدہ مساواتی بحران کی نشان دہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے ہمارے ساتھ کھڑے رہنے کی تعریف کی، بیرسٹرگوہر
نجی سکولوں کا بڑھتا ہوا اثر
ورلڈ بینک کی سینئر ایجوکیشن اسپیشلسٹ عزا فرخ نے کہا کہ نجی اسکولوں کا پھیلاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاندان سرکاری نظام سے نکلنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔
حکومت کے لیے پالیسی پیغام
آئی سیپس کے ڈائریکٹر پروگرامز احمد علی کا کہنا تھا کہ نجی اخراجات میں اضافہ حکومت کے لیے ایک واضح پالیسی پیغام ہے۔ یہ رجحان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا جائے، وسائل مؤثر انداز میں استعمال ہوں، اور خاص طور پر لڑکیوں اور محروم طبقات کے لیے مساوات کو تحفظ دیا جائے۔








