کچھ خطرات فوجی جوانوں کی مستعدّی نے ٹال دیئے، قافلہ امرتسر کے نواح جا پہنچا، یک دم رُک گئے، سبھی دم سادھ گئے، جانے کیا ہونیوالا ہے
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 34
انگریز اور ہندو کے گٹھ جوڑ نے بالآخر مجبور کردیا کہ اکثریتی علاقوں کا اِطلاق اِن اضلاع یعنی جالندھر، ہوشیار پور، لدھیانہ، گورداسپور، امرتسر وغیرہ پر ناممکن ہے۔ یہ بھارت کا حصّہ بن چکا ہے۔ اِس لیے وہاں کی آبادی کی نقل مکانی کے لیے انتظامات کیے جائیں۔
چنانچہ پاکستان ریلوے کا محکمہ مہاجرین کی نقل مکانی کے لیے متحرکّ ہو چکا تھا۔ کچھ بسّوں ٹرکوں کے قافلوں کی صورت میں بھی یہ کام ہوا۔ لیکن ایک کثیر آبادی کی نقل مکانی اِن محدود ذرائع سے ممکن نہ تھی۔ چنانچہ پَے درَپے بڑھتے حملو ں کو دیکھ کر لوگوں کے قافلے پیدل اور بیل گاڑیوں پر روانہ ہونے لگے۔
اِس کیمپ سے ایک قلیل تعداد بسّوں پر جانے میں کامیاب ہوگئی۔ اَٹھارہ بیس بسّیں …… بسّوں کا یہ قافلہ رات کے اندھیرے میں پاکستان سے چلا ہوگا۔ جو یہ صبح سویرے وہاں قصبہ راہوں پرائمری سکول کی دیوار کے ساتھ آکر رُک گیا۔ اِن بسّوں کے قافلے کے ساتھ 3 فوجی جوان بھی قافلے کی حفاظت کے لیے آئے تھے۔ یہ مہاجرین کو پاکستان لے جانے کے لیے شروع کے چند آنے والے قافلوں میں ایک تھا۔
یہ بھی شاید سچ ہی ہو کہ شر پسندوں کو بھی ایسے کیے گئے انتظاموں کا ابھی پتہ نہ تھا۔ اِس کا ثبوت کچھ اِس بات سے بھی ملتا ہے کہ نہ تو آتے ہوئے اِس قافلے کو کوئی گزند پہنچی اور نہ واپس جاتے ہوئے…… صرف ایک ناخوشگوار واقعہ ہوا تھا جس پر بھی بروقت قابو پا لیا گیا تھا۔
کچھ دیر ڈرائیور حضرات اور آرمی آفیسرز نے وہیں بسّوں میں آرام کیا۔ کچھ کھانا، پینا کیا اور پھر بسّوں کو سٹارٹ کر کے اُن کا رُخ تبدیل کر کے پاکستان کی طرف موڑ دیا۔ ہر کسی کو اِن بسّوں کے پاکستان سے آنے کی خبر نہ تھی۔
کیونکہ مہاجرین تو قصبے کے اندر دُور تک پھیلے ہوئے تھے۔ نزدیک والوں کو بھی خبر اُسی وقت ہوئی جب اعلان ہوا کہ پاکستان جانے کے لیے بسّوں میں بیٹھیں۔ تو جناب پھر کیا تھا۔ ایک دَوڑ لگ گئی۔ بس یُوں کہیں آنکھ جھپکتے بسّیں بھر چکی تھیں۔ والد صاحب چودھری ہاشم علی نے بھی اپنی فیملی بڑی مشکل سے سوار کی۔
بسّوں کا یہ قافلہ اگلے شہر ”نواں شہر“ سے صحیح و سلامت گزر کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوگیا۔ آگے بڑا شہر جالندھر تھا۔ یہاں کچھ خطرات محسوس کیے گئے تھے مگر غالباً فوجی جوانوں کی مستعدّی نے اُن کو ٹال دیا۔ کسی جگہ سٹاپ تو کرنا نہیں ہوتا تھا۔ لہٰذا منزلیں سمٹ سمٹاتی رہیں اور یہاں سے 2 گھنٹے میں یہ قافلہ امرتسر کے نواح میں جا پہنچا۔
یہاں قافلہ یک دم رُک گیا۔ سبھی دم سادھ گئے، اِس ڈر سے کہ جانے کیا ہونے والا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








