کوئی ہی آنکھ ایسی ہو گی جو اشک بار نہ ہو، ماحول ہی اداس سا تھا، لفظوں کا کمال اور سب سے بڑھ کر پر سوز آواز، آنسوؤں کا نہ بہنا ممکن ہی نہ تھا۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 415
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے خلاف کیوں اسکواڈ میں شاہین شاہ آفریدی کو شامل نہ کرنے کی وجہ سامنے آ گئی
یوم شہداء کی تقریب
پہلے ذکر ہو چکا کہ مسعود، صابر اور ریحان سے اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ میں ہمیشہ اپنی بیگم اور دوسرے جاننے والوں سے ایک بات کہا کرتا تھا کہ "اگر مسعود، ریحان اور عامر بہاول پور نہ ہوتے تو شاید میں ڈیڑھ سال بہاول پور نہ گزار سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ عامر نے ان ڈیڑھ سالوں میں میرا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہونے دیا۔
ریحان ریڈیو پاکستان بہاول پور کا صداکار بھی تھا۔ وہ اس شہر کی بڑی بڑی تقریبات کی میزبانی بھی کرتا اور آج بھی کرتا ہے۔ پاک فوج ہر سال 26 ستمبر کو یوم شہداء مناتی ہے، اور اسی تقریب میں مہمان خصوصی کور کمانڈر بہاول پور، لیفیٹنٹ جنرل ہارون اسلم حیات تھے۔ اس پروگرام کا سکرپٹ ریحان کے لیے میں نے لکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 14 سالہ جواد کے اعضاء نے 5 زندگیاں روشن کر دیں
تقریب کی یادیں
اس تقریب میں کمشنر، ڈی سی او ڈاکٹر نعیم رؤف، میں اور دیگر سرکاری افسران بھی مدعو تھے۔ ریحان کی آواز اور میرے الفاظ نے سماں باندھ دیا۔ دوران تقریب نعیم رؤف جو میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے تھے، کہنے لگے؛ "یار! ریحان کی آواز تو ہے ہی مگر تحریر بھی بہت عمدہ ہے۔" جب میں نے انہیں بتایا کہ "جناب! یہ خاکسار کی تحریر کردہ ہے۔" تو انہیں یقین ہی نہیں آیا۔
جب انہوں نے کمشنر سے تصدیق کی تو کہنے لگے؛ "شہزاد صاحب! کمال لکھا ہے۔ آئندہ سے میری تقریر بھی آپ کی ذمہ داری رہی۔" اس تقریب کی تحریر اتنی جاندار تھی کہ سامعین کے دل ریحان کی پرسوز آواز نے پسیج دئیے تھے۔ تقریب میں شامل کوئی ہی آنکھ ایسی ہو گی جو اشک بار نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوج کے غیر قانونی قبضے کیخلاف کشمیری کل یوم سیاہ منائیں گے
چولستان جیپ ریلی
چولستان جیپ ریلی کی بات کریں تو فروری 2013ء کی چولستان جیپ ریلی قاسم شیدی المعروف قاسم بغدای نے جیتی تھی۔ میں بھی اُس وقت بہاول پور ہی تھا، جبکہ حبیب الرحمان گیلانی چیئرمین پنجاب ٹورزم کارپوریشن تھے۔
جب قاسم کی گاڑی اپنے پیچھے دھول اڑاتی 165 کلو میٹر کی رفتار سے فنشنگ لائن کی طرف بڑھی تو میں گیلانی صاحب کو اکیلا چھوڑ کر قاسم کی جیپ کے پیچھے بھاگا۔ جب تک میں وہاں پہنچا، قاسم اور اس کا نیوی گیٹر رضوان بٹر جیپ سے باہر آ چکے تھے۔ قاسم چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے، اسے گلے لگاتے وقت آنکھوں میں آنسو آ گئے کیونکہ قاسم کئی سالوں سے اس ریس میں حصہ لے رہا تھا اور پہلی بار وہ جیتا تھا۔
اختتام
اللہ نے 2013ء میں میری کہی بات سچ کر دی تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








