اللہ کی قسم اس دھرتی کو، گلزار بنا کر دم لیں گے
بنگلہ دیش کے شہید طالبعلم رہنما کی یاد میں نظم
لاہور (طیبہ بخاری سے) بنگلہ دیش کے شہید طالبعلم رہنما عثمان ہادی کی یاد میں لکھی گئی نظم مقبول ہو گئی۔ اس نظم کو مشاہد منور نے لکھا ہے اور اسے سوشل میڈیا پر بھی بہت پذیرائی مل رہی ہے۔
نظم کی تحریر
دل اتنا دکھایا ہے تم نے
ہم کو نہ مناؤ رہنے دو
تم ساتھ ہمارے جب تک تھے
ہر خواب حقیقت لگتا تھا
شہادت کی راہ تم چن لی
ہم سب کو صرف اب رونے دو
تم ہنستے تھے تو لگتا تھا
یہ ملک ابھی زندہ ہے
تم چلتے تھے تو لگتا تھا
یہ شہر ابھی زندہ ہے
یادگار لمحات
تنظیم کی سانسوں میں ہادی
تیری خوشبو ہی رہتی تھی
دل اتنا دکھایا ہے تم نے
ہم کو نہ مناؤ رہنے دو
شہادت کی راہ تم نے چن لی
ہم سب کو صرف اب رونے دو
ہونٹوں پہ تبسم رہتا تھا
نظروں میں بھی تم ہی بستے تھے
تم ساتھ ہمارے جب تک تھے
ہم سچ میں دل سے ہنستے تھے
اجتماعی درد
اب ہنسنا بھی دشوار ہوا
یوں یاد نہ آؤ رہنے دو
کتنی ہی اذیت سہہ لی ہے
بس اب نہ رلاؤ رہنے دو
گہرے زخم
دل اتنا دکھایا ہے تم نے
ہم کو نہ مناؤ رہنے دو
جو زخم زیادہ گہرے ہوں
مشکل ہے بہت ان کا بھرنا
جو کچھ بھی تھا وہ ختم ہوا
کیوں شکوہ شکایت اب کرنا
جس دکھ کو چھپایا دل میں تھا
سب کو نہ دکھاؤ رہنے دو
واسطہ بھلا دو غم سارے
یوں دل نہ جلاؤ رہنے دو
مستقبل کا عزم
اس دیس کے ذرے ذرے کو
ہم اپنے خون سے سینچیں گے
اللہ کی قسم اس دھرتی کو
گلزار بنا کر دم لیں گے
جس خون شہیداں سے اب تک
گل رنگ ہوئی ہے یہ زمیں
اس خون کے قطرے قطرے سے
طوفان اٹھا کر دم لیں گے
عثمان ہادی کی شہادت
یاد رہے کہ گذشتہ ماہ دسمبر 2025 میں انقلاب منچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی ڈھاکہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور سنگاپور جنرل ہسپتال میں دورانِ علاج اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ شریف عثمان ہادی 12 دسمبر کو پرانا پلٹن کے علاقے میں اس وقت گولی کا نشانہ بنے تھے جب وہ بیٹری رکشہ میں انتخابی مہم کے لیے جا رہے تھے۔ تفتیشی اداروں کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور نے پیچھے سے ان پر فائرنگ کی، انہیں فوری طور پر ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سر پر گولی لگنے کے باعث انہیں شدید زخم کی ہنگامی سرجری کی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق گولی بائیں کان کے اوپر سے داخل ہو کر سر کے دائیں حصے سے نکلی تھی، جس سے برین اسٹیم کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ بعد ازاں انہیں ایور کیئر ہسپتال منتقل کیا گیا اور 15 دسمبر کو مزید علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا تھا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔








