پنجاب کے تعلیمی اداروں کو سیف سٹی کے سسٹم سے منسلک کردیا گیا
تعلیمی اداروں کی سکیورٹی میں جدید اقدامات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب کے 30 ہزار سے زائد تعلیمی اداروں کو سیف سٹی کے سسٹم سے منسلک کردیا گیا ہے۔ سکول، کالجز، اور یونیورسٹی کے نمائندگان روزانہ تین بار سیکیورٹی ایپ پر اپنے ادارے کی سیکیورٹی کی صورتحال کو اپڈیٹ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں تنخواہ دار طبقے نے ٹیکس دینے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا
سیکیورٹی کی ایک کلک میں جانچ
پنجاب کے سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کو صرف ایک کلک پر چیک کیا جا سکے گا۔ ورچوئل سینٹر فار ایجوکیشنل سیکیورٹی کو آپریشنل کردیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 30 ہزار تعلیمی اداروں میں ایک لاکھ 30 ہزار اساتذہ اور سیکیورٹی اسٹاف کی رجسٹریشن ہوگئی ہے۔ تمام تعلیمی اداروں کے عملے کے لئے پبلک سیکیورٹی ایپ کا انسٹال کرنا لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ میں وائس چانسلرز کی تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت
خطرے کی صورت میں فوری اقدامات
حکام کے مطابق، تعلیمی اداروں کے نمائندگان روزانہ تین بار ایپ پر ادارے کی سیکیورٹی کے بارے میں اپڈیٹ فراہم کریں گے۔ اگر کسی خطرے یا ایمرجنسی کی صورت میں صورتحال کا پتا چلتا ہے، تو فوری الرٹ جاری کیا جائے گا۔ براہ راست مانیٹرنگ کے لیے تعلیمی اداروں کے کیمرے بھی سیف سٹی سسٹم سے منسلک کرنے کا عمل جاری ہے۔
پینک بٹنز کی تنصیب
سیف سٹی کے پینک بٹنز کی تعلیمی اداروں میں تنصیب کے مراحل بھی تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ حکام اس بات پر پرامید ہیں کہ ورچوئل سینٹر فار ایجوکیشنل سیکیورٹی نہ صرف تعلیمی اداروں کی حفاظت میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مختلف واقعات کی تفتیش میں بھی معاونت فراہم کرے گا۔








