لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تمام منظور شدہ 60 اسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس عالیہ نیلم نے لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تمام منظور شدہ 60 اسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کے بہاؤ اور سیلاب کی تازہ رپورٹ جاری
تقرری کا عمل شروع
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ججز کی خالی 18 اسامیوں پر تقرری کے لیے پراسیس شروع کر دیا گیا، اسامیوں پر ججز کا تقرر ہونے پر منظور شدہ 60 ججز کی تعداد مکمل ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا گیا
تاریخی فیصلہ
ہائیکورٹ میں ججز کی منظور شدہ اسامیوں کی تعداد 60 ہے جو کبھی مکمل نہیں ہو سکی تھی، تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی خالی 60 اسامیوں کو ہر صورت مکمل کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے بیان پر ردعمل آ گیا
کیسز کے بروقت نمٹانے کی امید
ججز کی تقرریوں کا عمل مکمل ہونے پر زیر التوا کیسز کو بروقت نمٹایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشکوک پراپرٹیز کی رپورٹ طلب، جو افغان یا غیر ملکی کو پراپرٹی رینٹ پر دے گا تو بھرپور ایکشن ہوگا: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ
موجودہ ججز کی تعداد
اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سمیت 42 ججز فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور مجموعی طور پر 18 ججز کی اسامیاں خالی ہیں。
کام کا بڑھتا ہوا بوجھ
ججز کی خالی اسامیوں کے پُر نہ ہونے سے کیسز میں اضافے کے باعث موجود ججز پر بھی کام کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔








