وزیر فوڈ سکیورٹی کا اسلام آباد میں گدھوں کے گوشت پر واضح جواب دینے سے گریز
وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی کی گدھوں کے گوشت کے معاملے پر خاموشی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر نے اسلام آباد میں گدھوں کے گوشت سے متعلق واضح جواب دینے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا سیاسی قیدی رہا کر رہا ہے، ٹرمپ کا امریکی حملوں کی دوسری لہر منسوخ کرنے کا اعلان
قومی اسمبلی میں بحث کا آغاز
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں گدھوں کے گوشت کے معاملے پر شازیہ صوبیہ سومرو نے سوال اٹھایا کہ "اسلام آباد میں گدھے کا گوشت کھلایا جاتا ہے، اس کو کون دیکھتا ہے؟"
یہ بھی پڑھیں: پہلے وہ لبنان پھر یمن اور اب ایران آگئے، اگر ہم نہ بولے تو وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا: بلاول
رانا تنویر کا جواب
اس پر رانا تنویر نے واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملات صوبائی حکومت دیکھتی ہے اور پنجاب حکومت اس پر لیڈ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پروڈکشن کے لئے فوڈ اتھارٹی پنجاب حکومت نے بنائی، گدھوں کی کھالوں اور گوشت کے زیادہ تر معاملات صوبوں سے متعلق ہیں۔ یہ سب سبجیکٹس 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت خیبرپختونخوا نے عیدالفطر 2026 کے موقع پر 19، 20 اور 21 مارچ کو عام تعطیلات کا اعلان کر دیا۔
مقامی حکام کی ذمہ داری
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو نیشنل فوڈ سکیورٹی نہیں بلکہ ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹیز دیکھتی ہیں، اور بعض ریسٹورینٹس منافع خوری کے لئے مردہ مرغیوں کا گوشت بھی استعمال کرتے ہیں۔
18 ویں ترمیم پر تنقید
رانا تنویر حسین نے 18 ویں ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر 18 ویں ترمیم کے بعد سب اچھا ہے تو جو کراچی میں آگ لگی، پھر وہ بھی اچھا کام ہوگیا؟" انہوں نے مزید کہا کہ 18 ویں ترمیم سے متعلق بات کریں تو پھڑپھڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے۔








