سانحہ گل پلازہ، آتشزدگی کا شکار ایک ہی دکان سے 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی
کراچی میں گل پلازہ میں آگ کا واقعہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آگ سے تباہ ہونے والے گل پلازہ میں سرچ آپریشن کے دوران مزید 30 لاشیں ملی ہیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 تک جا پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں شعبان المعظم کا چاند نظر نہیں آیا، یکم شعبان بدھ کو ہوگی
لاشیں اور ان کی شناخت
رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔ گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد لوگوں نے خود کو بچانے کے لیے دکان میں بند کر لیا تھا، ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جانب سے قندھار اور کابل میں فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ کارروائی، سیکیورٹی ذرائع
مزید اموات کا خدشہ
پولیس سرجن کے مطابق آج ملبے سے نکالی گئی مزید باقیات کی جانچ کا عمل بھی جاری ہے تاہم مزید اموات کا اندیشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نامور تجزیہ کار ارشاد احمد عارف کی تازہ کتاب شائع ہو گئی
لاشوں کی ابتدائی شناخت
قبل ازیں ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں پولیس سرجن نے بتایا تھا کہ مجموعی طور پر 28 لاشیں موصول ہوئیں، ابتدائی طور پر 6 لاشیں مکمل اور قابلِ شناخت تھیں، ایک لاش تنویر نامی شخص کی سی این آئی سی کے ذریعے شناخت ہوئی اور باقی لاشوں کے ڈی این اے سیمپلز سندھ فرانزک ڈی این اے لیب بھجوا دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں نے تاریخی مالیت کی ترسیلات وطن بھیج کر ریکارڈ قائم کر دیا
ڈی این اے کی جانچ کا عمل
ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ گزشتہ رات مزید 3 لاشیں شناخت ہونے کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں، آئندہ ایک دو گھنٹوں میں مزید 3 سے 4 ڈی این اے رپورٹس آنے کی توقع ہے، آگ کی شدت کے باعث ڈی این اے شدید متاثر ہوا، شناخت کا عمل مشکل ہے۔ سندھ فرانزک ڈی این اے لیب 24 گھنٹے کام کر رہی ہے، زیادہ تر لاشیں مکمل نہیں بلکہ ٹکڑوں کی صورت میں موصول ہوئیں اور فریگمنٹری ریمینز سے ڈی این اے حاصل کرنا زیادہ وقت لیتا ہے۔
ورثا سے ڈی این اے سیمپلز
ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ مل لاشوں کی تعداد صرف 6 سے 7 تھی، مجموعی طور پر 51 ورثا کے ڈی این اے سیمپلز لیے گئے، ورثا کے سیمپلز والدین اور بچوں سے ترجیحی بنیاد پر لیے گئے، والدین یا بچے موجود نہ ہوں تو بہن بھائیوں سے ڈی این اے لیا جاتا ہے۔








