وفاقی حکومت نے 6 ماہ میں 1254 ارب روپے بیرونی قرضہ لے لیا
پاکستان کا بیرونی قرضہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 1,254 ارب روپے کا بیرونی قرضہ حاصل کیا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے، جو 280 ارب روپے کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 40 سے زائد اور بلڈرز نے بھتے کی شکایت کی، فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے: فاروق ستار
گرانٹس اور مالی معاونت
نجی ٹی وی 24 نیوز کے مطابق جولائی سے دسمبر کے عرصے میں پاکستان کو 17 ارب 67 کروڑ روپے کی گرانٹس بھی موصول ہوئیں۔ اس طرح چھ ماہ میں مجموعی بیرونی مالی معاونت 1,272 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی سیاست نازک موڑ پر،اسرائیل نے واشنگٹن کو ’’حیرت ‘‘ میں ڈال دیا
امریکی ڈالر میں مالی احاطہ
امریکی ڈالر میں دیکھا جائے تو پاکستان کو اس مدت میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے، جو گزشتہ مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے مقابلے میں 904 ملین ڈالر زیادہ ہیں۔ پچھلے سال اسی عرصے میں پاکستان کو 3 ارب 60 کروڑ ڈالر ملے تھے۔ یہ اعداد و شمار آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والی رقم کے علاوہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارش عاصم منیر بہت ہی متاثر کن اور بہترین شخصیت ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تعریف کر دی
چھ ماہ کے دوران حاصل کردہ قرضے
دستاویزات کے مطابق چھ ماہ میں:
- نان پراجیکٹ ایڈ کی مد میں 785 ارب روپے
- پراجیکٹ ایڈ کی صورت میں 487 ارب روپے
- بجٹ سپورٹ کے لیے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سڈنی واقعہ پر پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی: عطا تارڑ
سعودی عرب اور اسلامی ترقیاتی بینک کی امداد
مزید بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی آئل فیسلٹی فراہم کی، جبکہ اسلامی ترقیاتی بینک نے 137 ارب روپے کا قرضہ دیا۔ اسی عرصے میں پراجیکٹ ایڈ کی مجموعی رقم 487 ارب روپے رہی۔
مستقبل کے لیے قرضہ ہدف
دستاویز کے مطابق حکومت نے موجودہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 4,507 ارب روپے کے بیرونی قرضے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔








