بلوچستان کا 80 فیصد بجٹ تنخواہوں اور پنشن میں چلا جاتا ہے ، سرفراز بگٹی
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی بجٹ پر بات چیت
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا بجٹ ایک ہزار ارب روپے، 800 ارب ڈھائی لاکھ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں چلا جاتا ہے، 1.3 کروڑ عوام کے حصے 200 ارب آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں شہباز شریف اور نریندر مودی کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں، ترجمان دفتر خارجہ
بجٹ کی تلخ حقیقت
ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا سالانہ بجٹ ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں قریب 80 فیصد نان ڈیویلپمنٹ اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے "یعنی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن" جبکہ محض 200 ارب روپے صوبے کی 1.3 کروڑ عوام کی فلاح و ترقی کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کے دستوں نے اسلام آباد میں سیکیورٹی کے فرائض سنبھال لئے
اصلاحات کے اقدامات
سرفراز بگٹی کے مطابق اسی غیر متوازن نظام کو درست کرنے کے لیے گزشتہ دو برسوں میں انہوں نے متروک اور غیر مؤثر سرکاری دفاتر جیسے زکوٰۃ، مذہبی امور اور سول ڈیفنس کو بند کیا، آٹھ ہزار غیر ضروری سرکاری آسامیاں ختم کیں اور غیر حاضر ملازمین کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی۔
آگے بڑھنے کا عزم
انہوں نے کہا "ہم جانتے ہیں کہ اصلاحات کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا لیکن یہ طے ہے کہ دباؤ، احتجاج یا بلیک میلنگ ہمیں عوام کے حق کے تحفظ سے نہیں روک سکتی۔ میں بلوچستان کے عوام کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا اور اصلاحات کا یہ عمل ہر صورت آگے بڑھتا رہے گا۔"








