ہر کھیت میں بھونچال سا آگیا، چُھپے درندوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے، مال گاڑی کے ڈبے لاشوں سے اَٹے پڑے تھے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 35
یہ بھی پڑھیں: مسجد نبویﷺ کے مؤذن کی بستر مرگ پر دی گئی آخری اذان وائرل
فوجی کارروائی کی تفصیلات
دیکھا یہ گیا کہ فوجی جوان دائیں طرف قدآور ساؤنی کی فصلوں …… کماد اور مکئی، چری کی طرف تھوڑی سی پیشقدمی کر رہے ہیں اور پھر فوراً سب سواریاں دم بخود ہوگئیں جب انہوں نے فصلوں کی طرف "برین گنز" اور "سٹین گنز" سے فائر کھول دیا۔ اِن آٹومیٹک ہتھیاروں سے گولیوں کا مینہ برس گیا۔ اِس کے نتیجے میں اُن فصلوں کی حالت بھی قابل غور تھی۔ ہر پودا ایک دوسرے پر گرا پڑ رہا تھا۔ ہر کھیت میں ایک بھونچال سا آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: تنازع بات چیت سے حل ہوں تو اچھی بات ہے لیکن کسی دہشت گرد کا ہاتھ اگر معصوم کے خون سے رنگا ہوتو اسکی مذمت ہونی چاہیے،سرفراز بگٹی
دہشت گردوں کا مشاہدہ
پچھلی اور اگلی بسّوں کے لوگوں نے بعد میں بتایا کہ انہوں نے وہاں چھُپے ہوئے درندوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ چھُپے ہوئے دہشت گرد جو اِس قافلے کو خاک و خون میں نہلانے کے لیے یہاں چُھپے بیٹھے تھے، خود اپنی جان بچانے کے لیے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور اُن کو قافلے پر ایک بھی گولی چلانے کی مُہلت نہ مل سکی۔ اِس طرح اِس بلائے ناگہائی سے بچ بچا کر یہ قافلہ امرتسر شہر سے گذرتا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں لڑکی سے جنسی زیادتی کی خبر پھیلانے والی ’ملزمہ سارا خان‘ کے بارے میں اہم خبر آ گئی
امرتسر میں قافلے کی صورتحال
شہر کے آخری سرے پر ایک دو منزلہ عمارت سے قافلے پر چند فائر کیے گئے جن سے ایک مرد اور دو بچّے زخمی ہوگئے۔ فوجی جوان اُدھر لپکے کچھ جائزہ لیا لیکن اُنہوں نے اُدھر فائر نہ کھولا کیونکہ ٹارگٹ نمایاں نہ تھا۔ دوسرے امرتسر میں حکومتی سرپرستی میں کافی اسلحہ موجود تھا۔ اور جن سنگھی اور راشٹریہ سیوک سنگھ وغیرہ بلوائی تنظیموں نے یہاں وہ خون کی ہولی کھیلی تھی جس کے چرچے دُور دُور تک سُنے جا چکے تھے۔ لہٰذا دانشمندی کا دامن تھامے یہ قافلہ چند منٹ ٹھہرا پھر چل دیا اور واہگہ بارڈر پر جا رُکا۔
یہ بھی پڑھیں: Several Migrants Drown at Sea While Attempting to Reach England from France
بارڈر پر حالات
یہاں اُتر کر لوگوں کے سفر کے دوران اُترے خوف کے مارے چہرے دمک پڑے۔ بیشتر سجدے میں گرے "خدائے ذوالجلال" کا شکر بجا لائے۔ کئی ہاتھ اُٹھائے اللہ کی حمد و ثناء میں مشغول پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کی دعائیں مانگتے رہے۔ یہاں سے قافلہ اسی طرح والٹن کیمپ پہنچا اور سب مہاجرین وہاں اُتر گئے۔
یہ بھی پڑھیں: قائد اعظم پہلی دفعہ لاہور آئے تو اسی جگہ لینڈ کیا ، پاکستان کی جدید ترین سڑک روٹ 47 جہاں سے 1 میگا واٹ بجلی بھی پیدا کی جائے گی
کیمپ کی زندگی
دو تین دن بعد والد صاحب چوہدری ہاشم علی کیمپ کی مجموعی صورتِ حال دیکھ کر ارادہ کر بیٹھے کہ یہاں سے کسی محلہ میں رہائش پذیر ہوجائیں۔ چند دن والٹن کیمپ میں گزار کر لاہور کینٹ سے ملحقہ محلّے دھرم پورہ میں ایک متروکہ مکان کی اوپر والی منزل میں شفٹ ہوگئے اور تھوڑا بہت سکون ملا۔ خالی گھر تھا۔ لہٰذا فرش پر سوئے اور کھانا پکانے کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے روٹیاں بازار سے لاتے۔ اور رُوکھی کھا کر پانی پی لیتے۔
نئی آندھی کا سامنا
ایک دن شفقتِ مادرانہ نے جوش مارا تو دوپٹہ کے سرے پر بندھا ایک سکّہ دے کر کہا بیٹا جاؤ بازار سے آدھ پاؤ دہی لے آؤ اور اُس سے دونوں بھائی روٹی کھالو۔ محلّہ کے ساتھ ایک ریلوے لائن بھی تھی جو ریگولر نہ تھی بلکہ "backyard" قسم کی جہاں مال کی گاڑیاں یا پھر دوسرے فالتو ڈبے کھڑے کیے جاتے تھے۔ دو تین دن بعد اُدھر سے گذر ہوا تو منظر دیکھ کر فوراً گھر کو بھاگ گیا۔ غالباً مال گاڑی کے open ڈبے تھے جو زن و مرد اور بچّوں بوڑھوں کی لاشوں سے اَٹے پڑے تھے۔ مشرقی پنجاب اور دوسرے علاقوں میں جب خون کی ہولی کھیلی گئی تو پھر اِدھر بھی کچھ نہ کچھ تو ہونا تھا سو ہو کر رہا۔ اور انسانی زندگی اتنی ارزاں ہوگئی جو شاید کبھی بھی نہ ہوئی تھی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








