اب تک کتنے ممالک ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل اور کتنے انکار کر چکے ہیں ۔۔؟ جانیے
غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کی تازہ معلومات
مصر، ترکیہ اور دیگر ممالک غزہ پیس بورڈ میں شمولیت پر راضی، یورپی ملکوں کا انکار
متحدہ عرب امارات کے بعد ترکیہ، مصر، آذربائیجان اور اسرائیل نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے اسٹیٹ لائف سے صحت کارڈ کے ساتھ نئے معاہدے کی توسیع کردی،مزمل اسلم
ممالک کی شمولیت کی تفصیلات
لاہور (خصوصی رپورٹ) اب تک کتنے ممالک ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل اور کتنے انکار کر چکے ہیں؟ اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات کے بعد ترکیہ، مصر، آذربائیجان اور اسرائیل نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی ہے جبکہ فرانس، اٹلی، سوئیڈن، اور ناروے نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھی عالمی رہنماؤں پر مشتمل "بورڈ آف پیس" میں شامل ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا کے جزیرہ بورنیو میں فوجی ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا، 8 افراد سوار تھے
امریکی نمائندہ خصوصی کی وضاحت
"جنگ" کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ 20 سے 25 عالمی رہنما "غزہ بورڈ آف پیس" میں شمولیت کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔ ایران سے بھی رابطہ کیا تھا لیکن اب بات چیت نہیں ہو رہی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے حملے سے ایک رات پہلے کیا کام کیا کہ اگلے دن ایس 400 تباہ کرنا انتہائی آسان ہوگیا؟ بھارت کے سابق پائلٹ کا حیران کن انکشاف
رکنیت کی شرائط
خبر ایجنسی کے مطابق اراکین کو "بورڈ آف پیس" میں مستقل طویل مدت کی رکنیت کے لیے 1 ارب ڈالر تک ادائیگی کرنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بچے سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو اجازت ہونی چاہیے: شرجیل میمن
مصر کی حمایت کا اعلان
مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں صدر ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مصر "بورڈ آف پیس" میں شمولیت کی دعوت کو قبول کرنے اور متعلقہ قانونی اور آئینی طریقہ کار کو پورا کرنے کے عزم کا اعلان کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں سردی کے پیش نظر سکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی
غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے حمایت
جاری بیان میں غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لیے "بورڈ آف پیس" کے مشن کے لیے بھی حمایت کا اظہار کیا گیا۔
یورپی ممالک کا موقف
سوئیڈن اور ناروے نے امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے اور "بورڈ آف پیس" میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوئیڈن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" کے اقدام میں اب تک پیش کیے گئے مسودے کے ساتھ شرکت نہیں کریں گے۔
ناروے کا بھی کہنا ہے کہ وہ "بورڈ آف پیس" میں شامل نہیں ہوگا، مجوزہ بورڈ آف پیس کے نکات پر امریکہ کے ساتھ مزید بات چیت درکار ہے۔








