عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کے لیے حکومتی اقدامات کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کا کیس
اسلام آباد (ویب ڈیسک) عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ سب سیاسی کیریئر بچانے کے لیے مودی کا ڈرامہ ہے۔ پاکستانی عوام مودی کی اصلیت جان گئی۔
ہائی کورٹ میں حکومت کی رپورٹ
ہائی کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، حکومت نے مختلف ادوار میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کے لیے ایکس کو لکھا، تاہم یہ درخواستیں مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمر کی پرواہ کیے بغیر درست ساتھی ملنے پر شادی کرلینی چاہیے، پاکستانی اداکارہ کا بیان
پی ٹی اے کی جانب سے اقدامات
پی ٹی اے رپورٹ کے مطابق 21 اگست 2022 کو پہلی مرتبہ پی ٹی اے نے بانی پی ٹی آئی کا اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے ایکس کو خط لکھا۔ اس کے بعد 18 اپریل 2024 کو توشہ خانہ، سائفر اور عدت کیسز میں سزاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے ایکس کو درخواست ارسال کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک
ٹویٹس بلاک کرنے کی کوششیں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27 نومبر 2025 کو بانی پی ٹی آئی کی 47 ٹویٹس بلاک کرنے کے لیے ایکس کو لکھا گیا، تاہم ساڑھے 3 سال کے دوران 3 مرتبہ پی ٹی اے کی جانب سے لکھنے کے باوجود ایکس نے مجموعی طور پر درخواستیں مسترد کر دیں۔ رپورٹ کے مطابق 27 نومبر 2025 کو 47 ٹویٹس بلاک کرنے کی درخواست میں سے ایکس نے صرف ایک ٹویٹ بلاک کی۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم نے ٹی20 میں شاہد آفریدی کا ناپسندیدہ ریکارڈ برابر کردیا
سوشل میڈیا کمپنیوں کے مسائل
پی ٹی اے رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے سوشل میڈیا کمپنیز کو پاکستان میں اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر کرنے کا کہا، تاہم سوشل میڈیا کمپنیز نہ تو رجسٹرڈ ہوئیں اور نہ ہی پاکستان میں کوئی نمائندھ مقرر کیا۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیز اپنے اپنے ممالک میں رجسٹرڈ ہیں اور خود کو دوسرے ممالک کے قوانین کی پابند نہیں سمجھتیں۔
خلاصہ
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیز دوسرے ممالک سے موصول ہونے والی شکایات کو بھی اپنے قوانین کے مطابق دیکھتی ہیں۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سے متعلق پی ٹی اے کی یہ رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔








