بھارت میں ہندو لڑکی اور مسلمان نوجوان کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا
لاپتا نوجوان اور لڑکی کی لاشیں برآمد
میرٹھ(ڈیلی پاکستان آن لائن) تین روز سے لاپتا 24 سالہ نوجوان اور 18 سالہ لڑکی کی لاشیں بدھ کی شام مرادآباد ضلع کے علاقے پاکبڑا سے برآمد ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ غیرت کے نام پر قتل کا معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منیب بٹ کا ’’قربانی کا اونٹ‘‘ بھاگ گیا، مداحوں سے خاص اپیل
مقتولین کی شناخت
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مقتولین کی شناخت کاجل سینی اور محمد ارمان کے نام سے ہوئی ہے، جو امری سبزپور گاؤں کے رہائشی تھے۔ دونوں کی لاشیں گاؤں کے مضافات میں ایک مندر کے پیچھے سے برآمد ہوئیں۔ پولیس کے مطابق ارمان اتوار کی رات کاجل سے ملنے گیا تھا، جس پر لڑکی کے اہل خانہ طیش میں آ گئے۔ دونوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا اور لاشیں گگن ندی کے قریب دفنا دیں۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کا آئندہ ہفتہ ستاروں کی روشنی میں کیسا گزرے گا ؟
تحقیقات کا آغاز
بدھ کے روز ارمان کے اہل خانہ نے ایس ایس پی ست پال انٹل سے رجوع کیا، جس پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ دورانِ تفتیش، لڑکی کے اہل خانہ نے لاشوں کی تدفین کی جگہ بتا دی، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاشیں برآمد کر لیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں موبائل فون انٹرنیٹ ایک ہفتے سے معطل، شہریوں کو مشکلات
ملزمان کی گرفتاری
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ قتل لڑکی کے بھائیوں نے کیا۔ پولیس نے مقتولہ کے دو بھائیوں رِنکو سینی اور ستیش سینی کو گرفتار کر لیا ہے۔ واردات میں استعمال ہونے والا بیلچہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ یہ بات ایس پی (سٹی) کمار رن وجے نے تصدیق کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے بابراعظم اور محمد رضوان کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کردیے
علاقے میں کشیدگی
لاشیں نکالے جانے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی، دونوں برادریوں کے افراد بڑی تعداد میں موقع پر جمع ہو گئے۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے اور اضافی پولیس فورس اور پی اے سی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔
محبت کا رشتہ
گاؤں کے پردھان پرنَو سینی کے مطابق دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور اکٹھے لاپتا ہوئے تھے۔ واقعے سے قبل لاپتا افراد کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی، جبکہ اسی دن شام کو دونوں کی لاشیں برآمد ہو گئیں۔ پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے۔








