میرپورخاص، پیاز کی قیمتیں انتہائی کم سطح پر آنے کے بعد کاشتکار شدید پریشانی کا شکار
پیاز کی قیمتوں میں کمی کا کسانوں پر اثر
میرپورخاص (قیصر راجہ راجپوت) ضلع میرپورخاص میں پیاز کی قیمتیں انتہائی کم سطح پر آ جانے کے بعد کاشتکار شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ پیاز کے تاجر 125 کلو وزن والی پیاز کی بوری محض ایک ہزار روپے میں خرید رہے ہیں، جس کے باعث کسانوں کے پیاز کی فصل کاشت کرنے پر کروڑوں روپے کے اخراجات ڈوب گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بابراعظم کے استعفیٰ پر خاموشی توڑتے ہوئے اپنی بات کہی
کاشتکاروں کی تشویش
کاشتکار ٹھاکر عاصم قائمخانی، رانا اشرف راجپوت، میر منو پتافی، شاہد آرائیں اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلقہ جھڈو اور اس کے گرد و نواح میں ہزاروں ایکڑ رقبے پر پیاز کی فصل کاشت کی گئی ہے۔ سیزن کے آغاز سے ہی کاشتکاروں کا معاشی قتلِ عام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ پیاز کی فصل تیار کرنے کے لیے تقریباً دو لاکھ روپے خرچ آتا ہے، مگر اس سال سارا خرچ ضائع ہوگیا ہے اور پیاز کی مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث کاشتکار شدید بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک، بھارت جنگ بندی سیاسی قیادت کی دانشمندی کا نتیجہ تھی، اصل فیصلے کہاں ہوئے۔۔۔؟ خورشید محمود قصوری کھل کر بول پڑے
حکومتی غفلت کا اثر
کاشتکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت کی غفلت کے باعث پیاز کی برآمدات ممکن نہ ہو سکیں، جس کی وجہ سے اب وہ تیار فصل کو منڈی میں لانے کے بجائے کھیتوں میں ہی ہل چلا کر ضائع کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کی ناقص زرعی پالیسیوں کے باعث گزشتہ تین برسوں سے کاشتکار تباہ حالی کا شکار ہیں۔ کپاس، گندم، پیاز، ٹماٹر اور دیگر فصلوں کی کم قیمتوں کے ساتھ ساتھ نقلی بیج، کھاد اور زرعی ادویات فروخت کرنے والی مافیا بھی کاشتکاروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل شارجہ اور پرتگال بزنس کونسل شارجہ کا B2B اجلاس
کسانوں کی فریاد
کاشتکاروں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود یہاں کا کاشتکار فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ ہم پسماندہ علاقوں کے کاشتکار ہیں، سیلاب اور خشک سالی کا سامنا بھی ہمیں ہی کرنا پڑتا ہے، لیکن جب فصل تیار ہو کر منڈی میں آتی ہے تو فصلوں کے ریٹ انتہائی کم ہونے کے باعث ہم بھوک، بدحالی، تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
حکومت سے مطالبات
کاشتکاروں نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا کہ فصلوں کے مناسب نرخ مقرر کیے جائیں، کاشتکاروں کو ریلیف فراہم کیا جائے اور زراعت سے وابستہ افراد کو جینے کا بنیادی حق دیا جائے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو کاشتکار فصلیں کاشت کرنا بند کردیں گے۔ لہذا حکومت پاکستان اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، بصورت دیگر کاشتکار خودکشیاں کرنے پر مجبور ہونگے۔








