سانحہ گل پلازہ، ملبے سے مزید باقیات برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی
گل پلازہ پر آتشزدگی کا واقعہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) گل پلازہ پر آتشزدگی کے چھٹے روز بھی ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے اور اس دوران مزید باقیات برآمد کرلی گئی ہیں اور جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے شہداء کا بدلہ لیا اور آئندہ بھی لیتے رہیں گے: رانا تنویر حسین
جاں بحق افراد کی شناخت
ترجمان محکمہ صحت کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی سے جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے اور لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاشوں اور جسم کے مختلف اعضا سے 45 ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جب کہ 8 افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے مکمل ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں بشریٰ بی بی کی موجودگی میں میڈیکل بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کی متاثرہ آنکھ کا معائنہ کیا
سرچ آپریشن کی پیشرفت
ترجمان نے بتایا کہ 6 لاشیں مکمل تھیں اور ایک کو شناختی کارڈ سے شناخت کیا گیا۔ ڈی سی ساؤتھ کے مطابق 80 فیصد سرچ آپریشن مکمل ہوچکا ہے اور 80 فیصد لاشوں کو تلاش کیا جاچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو لوگ سگریٹ نہیں پیتے، انہیں بھی پھیپھڑوں کا کینسر کیوں ہوتا ہے؟
تلاش کا عمل جاری
اس سے قبل ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں تلاش کا عمل جاری ہے جو ایسوسی ایشن کی مدد سے کی جا رہی ہے، اور کہا گیا کہ تلاش کا عمل جلد مکمل کرلیا جائے گا۔ مزید دو افراد کی باقیات ملنے کے بعد سانحے میں جاں بحق کی تعداد 62 ہوگئی ہے، تاہم مزید تلاش ابھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگے ٹکٹوں اور متبادل پروازوں سے نجات: یورپ میں پی آئی اے کی پابندی ختم ہونے سے قومی ایئرلائنز کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
ریسکیو کی کارروائیاں
ریسکیو نے مزید بتایا کہ پلازہ کی چھت سے 61 میں سے 16 موٹرسائیکلیں اتار لی گئی ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری ہے۔ اسی دوران مزید باقیات ملی ہیں، جن کو قانونی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
آتشزدگی کے بعد کا جائزہ
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا اور ٹیکنیکل کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا۔ انہوں نے سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریشن کے بعد منہدم کیا جائے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے معلومات فراہم کی کہ گل پلازہ 8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل ہے۔ گل پلازہ میں ہفتے کی شب آگ لگنے کے بعد پورا پلازہ جل گیا تھا، اور گل پلازہ سے متصل پلازوں کا بھی معائنہ کیا گیا ہے۔








