وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے معین قریشی کے خلاف ہتکِ عزت کا کیس دائر کر دیا
عظمیٰ بخاری کا ہتکِ عزت کا مقدمہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی کے خلاف پہلا ہتکِ عزت کا کیس دائر کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیموکریٹ ایبی گیل ورجینیا کی پہلی خاتون گورنر، غزالہ ہاشمی نائب گورنر منتخب
قانونی کاروائی کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق معین قریشی کے خلاف ہتک عزت کا کیس پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے تحت درخواست دائر کیا گیا۔ عظمیٰ بخاری کی جانب سے معین ریاض قریشی کے خلاف 8 کروڑ 40 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 750 روپے مالیت کے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی 15 اپریل کو ہو گی
شواہد کی فراہمی
درخواست میں ویڈیو، سکرین ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹس بطور شواہد عدالت میں جمع کروا دئیے گئے ہیں۔ ڈیفیمیشن درخواست میں عام، تعزیری اور خصوصی ہرجانے کی تفصیلات بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طالبعلموں نے اپنی اُستانی کی غیر اخلاقی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کی، مگر پھر پکڑے کیسے گئے؟
نجی ٹی وی کے پروگرام میں بیان
نجی ٹی وی کے پروگرام میں دیے گئے بیان پر عظمیٰ بخاری نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ وزیر اطلاعات پنجاب کے خلاف جھوٹے اور ہتک آمیز بیان پر ڈیفیمیشن ٹریبونل لاہور میں کیس دائر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الخدمت فاؤنڈیشن نے این ڈی ایم اے اور حکومت پاکستان کے تعاون سے 100 ٹن کی 31ویں کھیپ غزہ کیلئے روانہ کردی
الزامات کی وضاحت
درخواست میں عظمیٰ بخاری نے موقف اپنایا کہ مجھ سے منسوب 150/200 پیڈ افراد کو اسمبلی میں داخل کروانے کا الزام بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ متنازع بیان ٹی وی اور سوشل میڈیا پر نشر ہوا، جس کو لاکھوں افراد نے دیکھا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی ٹاک شو اور پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ پر شائع بیان کو ہتکِ عزت قرار دیا ہے۔ جھوٹے الزامات سے عزت، وقار اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام نے خواجہ غلام فرید کے دربار پر آئے ڈپٹی کمشنر کو پیر سمجھ لیا، ہاتھ بھی چومے، پیر بھی چھوئے، ویڈیو وائرل
بدنیتی اور عوامی مفاد
درخواست میں مزید بتایا گیا کہ الزام بدنیتی، عناد اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظہر ہے۔ عوامی شخصیات کی ساکھ کو جھوٹے الزامات سے نقصان پہنچانا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
مدعا علیہ کے خلاف استدعا
وزیر اطلاعات نے استدعا کی ہے کہ مدعا علیہ کے خلاف ڈگری ہرجانہ اور عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔








