راجستھان جیل میں قید دو قاتلوں کی انوکھی محبت کی کہانی، آج شادی انجام پائے گی
محبت کی غیر معمولی کہانی
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع الور میں ایک غیر معمولی اور چونکا دینے والی محبت کی کہانی شادی پر منتج ہونے جا رہی ہے، جو کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ قتل کے دو مجرم، جو جیل میں ایک دوسرے سے ملے اور محبت میں گرفتار ہوئے، آج باقاعدہ شادی کرنے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان پر لگائے الزامات کے ثبوت نہیں دکھائے: برطانوی وزیر خارجہ کھل کر بول پڑے
پیار کی ملاقات
پریا سیٹھ عرف نیہا سیٹھ اور ہنومان پرساد کی ملاقات تقریباً 6 ماہ قبل اسی جیل میں ہوئی جہاں دونوں اپنی عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ ملاقات قربت میں بدلی اور پھر محبت میں تبدیل ہو گئی۔ اب دونوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میکسیکو میں ڈرگ کارٹیل کے ٹریننگ کیمپ سے تعلق پر میئر گرفتار، لیکن یہاں لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا؟
پیرول کی منظوری
راجستھان ہائیکورٹ نے دونوں قیدیوں کو شادی کے لیے 15 دن کی ایمرجنسی پیرول دے دی ہے، جس کے تحت آج ان کی شادی بارودامیو، ضلع الور میں انجام پائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر کاشف بشیر کی کتاب ’’پروفیسر خالد مسعود خالد کی کہانی، میری شاعری کی زبانی‘‘ کی تقریب رونمائی
پریا سیٹھ کا کیس
پریا سیٹھ ایک ماڈل رہ چکی ہیں، جنہیں 2018 میں نوجوان دشینت شرما کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
پریا نے ٹنڈر ایپ کے ذریعے دشینت سے دوستی کی، پھر اسے جے پور کے بجاج نگر کے ایک فلیٹ میں بلایا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اسے اغوا کر کے تاوان وصول کیا جائے تاکہ اس کے عاشق دکشنٹ کامرا کا قرض ادا کیا جا سکے۔ پریا نے مقتول کے والد سے 10 لاکھ روپے تاوان مانگا، جس میں سے 3 لاکھ روپے وصول بھی کیے گئے۔ بعد ازاں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ رہائی کی صورت میں دشینت پولیس تک پہنچ سکتا ہے، جس پر پریا، دکشنٹ کامرا اور اس کے دوست لکشیہ والیا نے دشینت کو قتل کر دیا۔ لاش کو شناخت سے بچانے کے لیے چہرے پر چاقو کے وار کیے گئے اور لاش کو سوٹ کیس میں بند کر کے عامر کی پہاڑیوں میں پھینک دیا گیا۔
ہنومان پرساد کا جرم
دوسری جانب ہنومان پرساد بھی ایک سنگین جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس نے اپنی گرل فرینڈ سنتوش کے کہنے پر اس کے شوہر اور بچوں کو قتل کیا تھا۔ اکتوبر 2017 میں سنتوش نے ہنومان کو اپنے گھر بلایا، جہاں اس نے جانور ذبح کرنے والے چاقو سے اس کے شوہر بنواری لال کو قتل کر دیا۔
قتل کے وقت سنتوش کے تین بچے اور ایک بھانجا جاگ گئے اور واردات دیکھ لی۔ گرفتاری کے خوف سے سنتوش نے اپنے بچوں اور بھانجے کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا۔
اس ایک ہی رات میں ایک شخص اور چار بچوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جس نے پورے ضلع الور کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔








