پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛ صدر مملکت کے اعتراضات اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود بلز منظور،اپوزیشن کااحتجاج ،نعرے بازی ،اپوزیشن کی غزہ پیس بورڈ کی مخالفت
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس
اسلام آباد(آئی این پی) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور صدر مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود بلز منظور کرلئے گئے۔ اجلاس جمعہ کو اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، جہاں اہم قانون سازی کے نکات زیر بحث آئے۔ اس موقع پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کیلئے درکار سطح کے قریب یورینیئم افزودہ کرلیا، آئی اے ای اے
صدر مملکت کے اعتراضات
مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد سے متعلق بل پر اعتراضات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو دانش اسکولز اتھارٹی بنانے سے قبل صوبوں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے۔ گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزاؤں پر بھی اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ اس بل پر دوبارہ غور کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن نے اے این پی کی بڑی وکٹ اڑا دی
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل
اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل پیش کیا گیا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی، جس کی حکومت نے حمایت کی۔ تاہم جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔ بعد ازاں اس بل کی منظوری دے دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا سینئر صحافی زبیدہ مصطفیٰ کے انتقال پر اظہار افسوس
اپوزیشن کا احتجاج
دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے جبکہ اپوزیشن اراکین نے ایوان میں نعرے بازی کی۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ سینیٹر کامران مرتضی نے صدر کے اعتراضات پیش کئے اور کہا کہ وفاق صوبوں کی حدود میں مداخلت کر رہا ہے۔ اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود پارلیمنٹ نے دانش اسکولز اتھارٹی بل کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور روس کے درمیان دوستی کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے : صدر مملکت
گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل
بعد ازاں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 کو منظور کرانے کے لیے پیش کیا گیا۔ جے یو آئی ارکان نے صدر کے اعتراضات ایوان میں پیش کیے۔ اسپیکر نے کہا کہ جس رکن نے ترامیم پیش نہیں کی، اسے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بالآخر ایوان نے بل کی منظوری کا عمل شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سفارتکاری کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں لیکن ابھی اس کا وقت نہیں، جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور جواب دیں گے، ایرانی وزیرخارجہ
مردوں کا شامل ہونا
وزیر مملکت طلال چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو تشدد بل میں مردوں کو بھی پہلی بار شامل کیا گیا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریوس ہیڈ کی شاندار سنچری، منفرد اعزاز حاصل کر لیا
سانحہ گل پلازہ پر قرارداد
ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر مشترکہ قرارداد پیش کی گئی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان کا ہے اور وفاقی حکومت کو امداد فراہم کرنی چاہیے۔ بعد ازاں ایوان نے سانحہ گل پلازہ پر متفقہ قرارداد منظور کر لی۔
بین الاقوامی مسائل پر تبصرہ
علامہ راجا ناصر عباس نے عالمی مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے لوگ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں اس پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے۔








