میں چند دوشیزاؤں کے غضب کا نشانہ بننے والا تھا، انہوں نے سر جوڑ کر مشورہ کیا، مجھے گھیرے میں لے لیا گیا اور کسی نے بھی آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ نہ روکا۔
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 37
اب اس میں عام آدمی اگر غور کرے تو اس کو 50 فیصد فوراً رد کرسکتا ہے کہ ایک چلتے گنجان آباد ٹرک میں جہاں ہچکولے پر ہچکولے کا امکان غالب ہو، وہاں یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ باقی رہا بقیہ 50 فیصد، تو یہ بھی دوسرے فریق کے زیادہ حساس ہونے، ایک ایسے موقع کی مناسبت سے تھوڑی بہت چھوٹ نہ دینے کا شاخسانہ تھا۔ خیر مجھے اپنی صفائی دینے کے لیے وہاں کوئی فورم نہ تھا۔ وہاں تو میں چند نوجوان اٹھتی دوشیزاؤں کے غضب کا نشانہ بننے والا تھا۔
انہوں نے سر جوڑ کر مشورہ کیا اور پھر فیصلہ سنا دیا کہ اس فضول نوجوان کی اس حرکت کی سزا یہ ہے کہ اسے ٹرک سے باہر پھینک دیا جائے۔ چنانچہ مجھے گھیرے میں لے لیا گیا اور کسی نے بھی آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ نہ روکا۔ میری والدہ کو بھی بالکل پتہ نہ چل سکا کیونکہ وہ ٹرک کے اگلے حصے میں تھیں۔
انہوں نے مجھے اٹھا لیا اور اتنا اونچا اٹھا لیا کہ میرا سارا وجود ٹرک کی باڈی کے اوپر تک چلا گیا۔ پھر غالباً میں نے عاجزانہ درخواست کی کہ میں ٹرک سے باہر کھڑا ہوجاتا ہوں، جسے منظور کر لیا گیا۔ اب آپ جانتے ہیں کہ ٹرک کے باہر والی سائیڈ بالکل ہموار ہوتی ہے اور اس میں پاؤں رکھنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ میں باہر کی طرف لٹک گیا، میرے ہاتھ ٹرک کے اوپر والے پھٹے کو تھامے ہوئے تھے۔ میرے پاؤں کے نیچے کوئی چیز نہ تھی۔
اچانک مجھے ایک کُنڈا سا محسوس ہوا جو غالباً ٹرک میں سامان لادنے کے بعد رسّہ باندھنے کے لیے لگایا گیا تھا تاکہ سامان کے گرد رسّہ ڈال کر کَس دیا جائے۔ بس ایک پاؤں کا انگوٹھا اس میں اٹک گیا۔ بس اس کو اگر آپ کہیں گے کہ آسمان سے گِرا کھجور میں اٹکا تو بھی زیادتی ہوگی۔ ارے بھئی کھجور کی تو اچھی خاصی امداد ہوگی۔ کوئی ہاتھ پاؤں مارنے یا مضبوطی سے پکڑے رکھنے کا عمل تو درکار نہ ہوگا۔ لیکن یہاں تو مشکل ترین صورت حال تھی۔
اب جسم کا سارا وزن ہاتھوں کی انگلیوں پر کب تک اٹھاتے پھرو گے۔ ایک بیچارہ پاؤں کا انگوٹھا کہاں تک کتنا وزن اٹھاتا چلا جائے گا۔ بہرحال جبر کا سامنا کرنے والوں میں ایک انجانی قوت مدد کو آجاتی ہے اور وہ اس کے سہارے کٹھن سے کٹھن وقت کو بھی آگے دھکیلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ لیکن دوسرا پہلو بھی کوئی دور نہیں ہوتا۔ ذرا سی ہاتھوں کی سکت گئی تو بس بیچارے انگوٹھے کا بھی کوئی مقام نہ تھا اور زندگی دھڑام سے اپنے منطقی انجام کو جا پہنچتی۔
ٹرک جا رہا تھا…… نہ ٹرک کے اندر کسی نے احتجاج کیا نہ ڈرائیور کو خبر ہوئی اور نہ خبر دی گئی۔ سڑک پر جاتے دیکھنے والے انگشت بدنداں کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ ایک جوان جیتے جی سولی پر چڑھا ہے۔ ٹھیک سے اندازہ تو نہیں، بہرحال یہی کوئی 30-25 کلو میٹر سے کم کیا فاصلہ طے کیا ہوگا کہ قسمت نے یاوری کی اور فیصل آباد کی پہلی چیک پوسٹ آپہنچی۔
چیک پوسٹ پر موجود سپاہی نے جب ایک نوجوان کو ٹرک سے باہر لٹکتے دیکھا تو اُس نے فوراً ٹرک ڈرائیور کو روکا اور کہا کہ اُسے اندر کرو۔ اس بے چارے کو تو اس سارے ماجرے کا پتہ ہی نہ تھا، فوراً میری مدد کو آیا۔ ایک آدمی اوپر بھیجا اور میرے دونوں ہاتھوں کو پکڑا۔ نیچے سے ڈرائیور نے پاؤں کو اوپر اچھالا تو اس طرح میں دوبارہ اس ٹرک کے اندر داخل ہوا اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ جان بچی تو لاکھوں پائے۔
نوٹ:
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








