ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے، بیرسٹر علی ظفر
پاکستان میں قرضوں کی صورتحال
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور اٹلی کا مضبوط دوطرفہ شراکت داری کے اعادے پر اتفاق، اوورسیز کمیونٹی پل کا کردار ادا کر رہی ہے: چیئرمین سینیٹ
حکومتی مالیاتی پالیسیاں
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں پر سپر ٹیکس لگا کر حکومت چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ پارلیمنٹ کے پاس نہ معیشت کا کوئی معاملہ ہے اور نہ ہی خارجہ امور کا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دیدی
بین الاقوامی نظام کی تبدیلی
پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ دنیا میں ایک نیا نظام آرہا ہے، جس میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ غیر منتخب حکومت نے قرض لے کر عام شہری کا معاشی قتل کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ بھر میں ایڈز کے بڑھتے کیسز، عطائی ڈاکٹرز، غیرقانونی کلینکس، غیر رجسٹرڈ بلڈ بینکس، ہم جنس پرستی اہم وجوہات قرار
پارلیمنٹ کی اہمیت
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آپ کو پارلیمنٹ کی ضرورت پڑے گی، اور قوم کی حمایت آپ کو تب ملے گی جب بانی پی ٹی آئی آئیں گے۔ اس پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے جواب دیا اور کہا کہ "اڈیالہ میں بیٹھا شخص حکومت میں آکر فیل ہو چکا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ اس نے کرسی کی خاطر آئی ایم ایف کا پروگرام سبوتاژ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لڑکوں کو شادی جلدی کرلینی چاہیے: سابق کپتان شعیب ملک کا مشورہ
معاشی پالیسیوں پر تنقید
وفاقی وزیر نے کہا کہ "بیرسٹر علی ظفر کی پارٹی کی معاشی پالیسیاں ہم نے 2018 میں خوب دیکھیں۔" انہوں نے اسد عمر کی معیشتی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ 12 ماہ سمجھ نہیں پائے کہ کیا کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ "پی ٹی آئی نے معاشی دہشت گردی کی، ان کی لگائی آگ ہم بجھارہے ہیں۔" اگر آپ معاشی استحکام میں حصہ نہیں ڈال سکتے تو اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔
اجلاس کی صورتحال
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی گئی، اور اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ پر حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔ سینیٹ اجلاس میں کورم کی نشاندہی پر اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔








