افغانستان میں غلام بنانا قانونی قرار دیدیا گیا ۔۔۔ عدالتوں کے نئے فیصلے جاری، طالبان پر تنقید یا اختلاف کرنے والوں سے کیا سلوک کیا جائے گا؟ اہم تفصیلات جانیے۔
افغانستان میں غلامی کے قانونی فیصلے
لاہور (طیبہ بخاری سے) افغانستان میں غلام بنانا قانونی قرار دے دیا گیا۔ عدالتوں کے نئے فیصلے جاری ہوئے ہیں، اور طالبان پر تنقید یا اختلاف کرنے والوں سے کیا سلوک کیا جائے گا؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں۔
نئے قوانین کی تفصیلات
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، افغانستان میں افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اور طالبان کی قائم کردہ عدالتوں کے نئے فیصلے کے تحت اب کسی انسان کو غلام بنانا قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ نئے قانون کے تحت افغان معاشرے کو 2 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
- غلام
- آزاد
دونوں طبقات کے حقوق الگ الگ ہوں گے۔
غیر سنی مسلمانوں کی حیثیت
تمام غیر سنی مسلمان، بشمول شیعہ، کو قانونی طور پر گمراہ اور بدعتی قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لیے عبادات یا مسالک پر اعلانیہ عمل کی صورت میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
تنقید اور اختلاف کا جرم بننا
طالبان پر تنقید یا اختلاف کو بھی قانوناً جرم بنا دیا گیا ہے، جس کی سزا 3 کوڑوں سے 50 کوڑوں تک رکھی گئی ہے۔
عورت کی حیثیت
عورت کو مرد کی قانونی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے، اور مرد کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ:
- عورت کو کسی کام سے روک سکتا ہے
- اپنی بات منوانے کے لیے اس پر تشدد کر سکتا ہے
بچوں کی شادی کی قانونی حیثیت
9 سال کی بچی کو قانوناً عورت قرار دے دیا گیا ہے اور اس سے شادی کو جائز ٹھہرایا گیا ہے۔
گھر کے ماحول میں تبدیلیاں
گھروں کے کمروں میں موجود کھڑکیاں اینٹوں سے بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے، تاکہ عورتیں گھروں میں پردے میں رہیں۔
معاشرتی تقسیم
تنظیم رواداری کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، طالبان نے افغان معاشرے کو 4 گروہوں میں تقسیم کیا ہے:
- علماء
- شرفا
- درمیانہ طبقہ
- غلام
یہ تقسیم ہندو ذات پات کے نظام سے مشابہ ہے، جہاں معاشرہ برہمن (علماء)، کشتریہ (حکمران و فوجی)، ویش (تاجر و کسان)، اور شودر (غلام و صفائی کے کام) پر مشتمل ہوتا ہے۔
نتیجہ
یہ معلوم نہیں کہ یہ تقسیم بھارت کے ساتھ قربتوں کا نتیجہ ہے یا طالبان کی اپنی پالیسی۔ دنیا میں اس وقت افغانستان پہلا ملک بن چکا ہے جس نے سینکڑوں سال بعد غلامی کو دوبارہ زندہ کر کے اسے باقاعدہ قانونی حیثیت دے دی ہے۔








