شارٹ سرکٹ کے مستقل سدباب کے لیے ہنگامی سیفٹی پلان طلب، گل پلازہ جیسے سانحہ سے بچنا چاہتے ہیں، عوام کا تحفظ ذمہ داری ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
پنجاب میں بجلی کے تاروں کی وجہ سے حادثات سے بچاؤ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں بجلی کے تاروں کے باعث "شارٹ سرکٹ اور جان لیوا حادثات" سے بچاؤ کے لئے عملی اقدام شروع کر دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں لاہور کو بجلی کی لٹکتی بے ہنگم اور خطرناک تاروں سے نجات دلائی جائے گی۔ بسنت پر ناخوشگوار حادثات روکنے کے لئے اندرونِ شہر سے بجلی کے بے ہنگم اور خطرناک تار ہٹانے کا پائلٹ پراجیکٹ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تیرہ کروڑ کی ڈکیتی، ٹک ٹاکرز سمیت 4 ملزمان کے ریمانڈ میں توسیع
وزیراعلیٰ کا انڈر گراؤنڈ تاروں کی منصوبہ بندی پر زور
وزیراعلیٰ مریم نواز نے بجلی کے تار انڈر گراؤنڈ کرنے کے دوران انٹرنیٹ اور دیگر متاثرہ سروسز کی متبادل سپلائی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں پورے لاہور کو 3 زون میں تقسیم کرکے بجلی تار انڈر گراؤنڈ کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔ نئی ہاؤسنگ سکیموں میں بجلی کی سپلائی کے تار انڈر گراؤنڈ لازم قرار دینے کا اصولی فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ اور جانی نقصان کے مستقل سدباب کے لئے وزیراعلیٰ نے ہنگامی سیفٹی پلان طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو اندیشے تھے دور ہوگئے ، پاکستان میں مہنگائی کم ہونا شروع ہو گئی
لیسکو کی بریفنگ اور شراکت داروں کا کردار
لیسکو حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں 40 ہزار کلومیٹر بجلی کے تار اور 50 ہزار کلومیٹر انٹرنیٹ کیبل پھیلی ہوئی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ کراچی گل پلازہ جیسے سانحہ سے بچنا چاہتے ہیں، عوام کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ بارش کے دوران بجلی کے تار حادثات کا موجب بن رہے ہیں۔ بجلی کے بے ہنگم تار نہ صرف دیکھنے میں بدصورتی پھیلاتے ہیں بلکہ یہ انسانی جانوں کے لئے مستقل خطرہ ہیں۔
سٹیئرنگ کمیٹی کی تشکیل
وزیراعلیٰ مریم نواز کے حکم پر قائم کردہ سٹیئرنگ کمیٹی میں صوبائی وزیر فیصل کھوکھر، لیسکو، ہاؤسنگ، لوکل گورنمنٹ حکام اور انتظامی افسران بھی شامل ہوں گے۔








