چین اب امریکہ کا دشمن نمبر ون نہیں رہا، پینٹاگون نے چین کیلئے خطرے کی سطح کم کردی، اب امریکہ کی پہلی ترجیح کیا ہوگی؟
امریکہ کی نئی نیشنل ڈیفنس سٹریٹجی
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے اپنی نئی نیشنل ڈیفنس سٹریٹجی جاری کر دی ہے جس میں چین کو امریکا کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دینے کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس نئی حکمتِ عملی کے تحت امریکا نے چین کے بجائے اپنے داخلی دفاع اور مغربی نصف کرے (Western Hemisphere) میں سٹریٹجک مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کی خاتون افسر نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا
سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقید
کلیش رپورٹ کے مطابق اس دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ سابقہ امریکی حکومتوں نے امریکی مفادات کو نظرانداز کیا، جس کے نتیجے میں امریکا کو پاناما کینال اور گرین لینڈ جیسے اہم سٹریٹجک مقامات تک رسائی کے حوالے سے خطرات لاحق ہوئے۔ نئی حکمتِ عملی ماضی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں امریکی سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایسٹر سمیت ہر تہوار میں محبت و بھائی چارے کا پیغام پوشیدہ ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
مجھے توجہ دینے والے نئے اہداف
نیشنل ڈیفنس سٹریٹجی کے مطابق اب توجہ کا مرکز امریکی سرزمین کا دفاع اور مغربی نصف کرے میں امریکی اثر و رسوخ کا تحفظ ہوگا۔ یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے، جن میں وینزویلا میں فوجی کارروائیاں اور گرین لینڈ کے حصول کی خواہش بھی شامل ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکا اب عوام کے “عملی مفادات” پر توجہ دے گا اور وسیع مگر غیر مؤثر عالمی حکمتِ عملیوں سے کنارہ کشی اختیار کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نائیجیریا میں موسلادھار بارشوں کے بعد سیلاب سے تباہی، حادثات میں 115 افراد ہلاک، نظام زندگی دہم برہم
یورپ کا کردار
یورپ کے حوالے سے نئی دفاعی حکمتِ عملی میں یہ ضرور کہا گیا ہے کہ براعظم کی معاشی اہمیت کم ہو رہی ہے، تاہم یورپ کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا گیا۔ پینٹاگون نے یورپ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی بات کی ہے، لیکن یہ بھی واضح کیا ہے کہ اب یورپ امریکی دفاعی منصوبہ بندی کا مرکزی ستون نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نژاد نیما شیخ کا اعزاز،سکالر شپ حاصل کرنے والی سکاٹ لینڈ کی پہلی کرکٹر بن گئیں
چین کا جائزہ اور دیگر خطرات
اگرچہ چین کو اب براہِ راست سب سے بڑا خطرہ قرار نہیں دیا گیا، تاہم نئی حکمتِ عملی میں بیجنگ کو روکنے کے لیے سفارتی دباؤ اور بحرالکاہل میں مضبوط دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ چین کی فوجی طاقت میں اضافے کا اعتراف کیا گیا ہے، تاہم خطے میں امریکی فوجی تعیناتیوں کے حوالے سے واضح تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دستاویز میں روس، ایران اور شمالی کوریا کو بھی خطرات کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، تاہم ان کی اہمیت ماضی کے مقابلے میں کم دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مغربی نصف کرے میں خلیجِ میکسیکو سمیت اہم علاقوں پر امریکی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے، اگرچہ اس مقصد کے حصول کے طریقۂ کار کی وضاحت محدود ہے.
خلاصہ اور منظوری کی وجوہات
یہ دفاعی حکمتِ عملی کئی ماہ کی تاخیر کے بعد منظرِ عام پر آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق چین کو خطرہ قرار دینے کے معاملے پر اندرونی اختلافات اور تجارتی مذاکرات کے باعث اس کی منظوری میں تاخیر ہوئی۔ ابتدائی مسودے گزشتہ سال وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو پیش کیے جا چکے تھے، تاہم طویل جائزے کے بعد اب اسے باضابطہ طور پر جاری کیا گیا ہے۔








