چین کے جنرل ژانگ یوشیا کے خلاف تحقیقات شروع، وہ صدر کے بعد فوج کے سب سے بڑے عہدیدار ہیں
چین کی وزارت دفاع کا اعلان
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے سب سے اعلیٰ رینک رکھنے والے جنرل ژانگ یوشیا کے خلاف “نظم و ضبط اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں” کے الزام میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ وزارت نے الزامات کی مزید تفصیل فراہم نہیں کی، تاہم چین میں اس نوعیت کی زبان عموماً بدعنوانی کے الزامات کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اسی اعلان میں ایک اور سینئر فوجی افسر جنرل لیو ژن لی کے خلاف بھی تحقیقات کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اونٹ کو مختلف زبانوں میں کیا کہتے ہیں؟
جنرل ژانگ یوشیا کا پس منظر
بی بی سی کے مطابق جنرل ژانگ یوشیا کو صدر شی جن پنگ کا قریبی ترین فوجی اتحادی سمجھا جاتا رہا ہے۔ وہ 75 برس کے ہیں اور کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ انتظام سینٹرل ملٹری کمیشن کے نائب چیئرمین تھے، جو چین کی مسلح افواج کا اعلیٰ ترین کنٹرولنگ ادارہ ہے اور اس کی سربراہی خود صدر شی جن پنگ کرتے ہیں۔ ژانگ کمیونسٹ پارٹی کی 24 رکنی اعلیٰ فیصلہ ساز باڈی پولٹ بیورو کے بھی رکن تھے۔ ان کے والد چینی کمیونسٹ پارٹی کے بانی جرنیلوں میں شامل تھے، جبکہ ژانگ خود 1968 میں فوج میں شامل ہوئے اور ان چند اعلیٰ فوجی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں عملی جنگی تجربہ حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان: بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے ہوسٹل سے طالب علم کی لاش برآمد
تحقیقات کی وجوہات
غیر معمولی طور پر ژانگ کو فوجی ریٹائرمنٹ کی روایتی عمر سے آگے بھی عہدے پر برقرار رکھا گیا، جسے اب تک صدر شی جن پنگ کے اعتماد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ژانگ اور لیو دونوں تحقیقات کی زد میں آ سکتے ہیں، کیونکہ وہ دسمبر میں ہونے والے ایک اہم پارٹی اجلاس میں نظر نہیں آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کو لٹیروں کے ٹھکانے میں تبدیل ہونے سے بچانا چاہیے، جرمن صدر کھل کر بول پڑے
فوج میں بدعنوانی کے خلاف مہم
یہ پیش رفت اکتوبر میں نو اعلیٰ فوجی جرنیلوں کی برطرفی کے بعد سامنے آئی ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں چینی فوج کے اندر ہونے والی سب سے بڑی عوامی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں سے ایک تھی۔ صدر شی جن پنگ اقتدار میں آنے کے بعد سے مختلف ریاستی اداروں میں بدعنوانی کے خلاف مسلسل مہم چلا رہے ہیں، جس کا حالیہ عرصے میں خاص طور پر فوج پر زیادہ فوکس رہا ہے۔ صدر شی بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی کے لیے “سب سے بڑا خطرہ” قرار دے چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف جنگ “ابھی بھی سنگین اور پیچیدہ” ہے۔
مہم کے اثرات اور تنقید
حکومتی حامیوں کے مطابق یہ مہم بہتر حکمرانی کو فروغ دیتی ہے، جبکہ ناقدین کا خیال ہے کہ اسے سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ژانگ اور لیو کے خلاف تحقیقات کے بعد سینٹرل ملٹری کمیشن کے ارکان کی تعداد سات سے کم ہو کر صرف دو رہ گئی ہے، جن میں ایک صدر شی جن پنگ بطور چیئرمین اور دوسرے ژانگ شینگ من شامل ہیں، جو فوج میں نظم و ضبط سے متعلق امور کے نگران ہیں۔








