گاؤں کا ہر کونہ ایک ویرانی اور بے سروسامانی کا جیتا جاگتا ثبوت تھا، مرچیں رگڑ رگڑ کر روٹی کا رول بنا لیتے، سالن پکانے کیلئے برتن تھے نہ سامان۔

مصنف: ع غ جانباز

قسط: 38

فصل آباد سے روانگی

فیصل آباد سے موضع "چندیاں تلاواں" کو روانہ ہوئے جو کوئی 8 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ یہاں سکھ کمیونٹی آباد تھی۔ اُن کے انڈیا جانے کے بعد اردگرد کے مسلمان دیہات کے لوگوں نے اُن کے گھروں کا سب سامان لوٹ لیا تھا اور گاؤں کا ہر کونہ ایک ویرانی اور بے سروسامانی کا جیتا جاگتا ثبوت تھا۔

عیسائی کمیونٹی کی موجودگی

گاؤں کے مشرق اور مغرب میں دو چھوٹی چھوٹی عیسائی کمیونٹی کی آبادیاں تھیں۔ وہ بھی ضرور اوپر بتائی ہوئی لوٹ مار سے مستفید ہوئے ہونگے۔ گاؤں میں نہ کوئی دکان تھی اور نہ کوئی اور جگہ جہاں سے انسان اپنی خورد و نوش کی کوئی چیز خرید سکے۔

مفت آٹا

سینہ گزٹ سے پتہ چلا کہ ساتھ والے گاؤں "باگیوال" جہاں مقامی لوگ آباد تھے وہاں سے آٹا مفت مل سکتا ہے کیونکہ انہوں نے مہاجرین کے لیے یہ بندوبست کر رکھا ہے۔ چنانچہ وہاں اکثر جانا لگا رہتا تھا اور آٹا لا کر روٹیاں پکالی جاتی تھیں۔

گاؤں کی زندگی

صبح اُٹھ کر ہم رفع حاجت کے لیے باہر نکل جایا کرتے تھے کیونکہ اُن دنوں گھروں میں لیٹرین اور واش روم بنانے کا رواج نہ تھا۔ وہاں ضروری فراغت کے بعد کسی راجباہ یا "کھالے" سے ہاتھ منہ دھو لیتے اور کھیتوں میں سرگرداں ہوجاتے۔

مرچ کی فصل

اس گاؤں میں مرچ کی فصل بڑی اچھی ہوتی تھی لیکن ہمارے آنے سے کچھ پہلے سب فصل کٹ چکی تھی۔ پودوں سے مرچیں اٹھا لی گئی تھیں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی پودے کے ساتھ ایک آدھ چھوٹی مرچ رہ گئی تھی۔ جو ہم ایک ایک دو دو کر کے چند مرچیں اکٹھی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

سالن پکانے کی مشکلات

امّی جان کی پکائی ہوئی روٹیاں لے کر ہری مرچوں کو اُس کی سطح پر رگڑتے… اس طرح دو تین مرچیں رگڑ رگڑ کر ایک رول بنا لیتے اور مزے سے روٹی کھاتے۔ کسی قسم کا سالن پکانے کے لیے نہ تو برتن تھے اور نہ سامان۔ یہ شب و روز بھی سورج نکلنے کے بعد دن کے شروع ہونے اور غروب ہونے پر رات کے ڈیرہ ڈالنے پر اختتام پذیر ہوتے۔

خدا کی شکر گزاری

خدا کی رضا پہ راضی لوگ اللہ کا شکر ادا کرتے نظر آتے جس نے ظلم و بربریت کے چنگل سے نجات دلائی اور تنگی تُرشی والے دنوں کے باوجود ایک سُکھ کا سانس لینے کا موقع دیا۔

زرعی زمین پر قبضہ

چونکہ تقریباً سبھی لوگ زراعت پیشہ تھے اور انڈیا میں زرعی اراضی کے مالک تھے، لہذا اُن کا یہ استحقاق بنتا تھا کہ وہ زرعی زمین پر قابض ہوجائیں۔ کوئی سسٹم رائج نہ ہونے کے سبب ہر کسی نے اپنی خواہش اور طاقت کے مطابق زرعی زمین پر قبضہ کرلیا۔

دلخراش واقعہ

اس دوران ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جب میں اور میرے ماموں کا بیٹا "عبد الرحمان" اپنے زرعی رقبہ میں نگرانی کر رہے تھے کہ ایک اسی گاؤں کا نوجوان کماد کاٹنے میں مصروف ہوگیا۔ ہم نے اُسے روکا تو وہ آگے سے غرّایا اور ہمارے کہنے سننے کا ذرّہ برابر بھی نوٹس نہ لیا۔ عبد الرحمان خود گاؤں کو بھاگ گیا تاکہ والد صاحب کو اطلاع دے۔

ہجوم کا آنا

کچھ ہی دیر میں آٹھ دس آدمی گاؤں سے آتے دکھائی دئیے جن میں سے ایک دو کے پاس بندوق بھی تھی۔ اُن لوگوں نے اُس نوجوان کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ موقع پا کر بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔

دوسرا ہجوم

سبھی لوگ اس واقعہ پر گفت و شنید میں مصروف تھے کہ گاؤں کی طرف سے تیس چالیس آدمیوں کا ایک گروہ ڈنڈے اور دوسرے ہلکے پھلکے ہتھیار اٹھائے سر پر آپہنچتا ہے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...