وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، موسم کی شدت کے باعث ہر سال لوگ وادی تیراہ سے انخلا کرتے ہیں، عطا اللہ تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر کی وضاحت
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کو فوج سے جوڑنا سراسر غلط ہے، حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے علی لاریجانی اور کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کو ’’بہت بڑی کامیابی‘‘ قرار دیدیا
نقل مکانی کا پس منظر
کوٹ مومن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسم کی شدت کے باعث ہر سال لوگ وادی تیراہ سے انخلا کرتے ہیں۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے خود 4 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے، اب اس معاملے کو کیسے فوج سے جوڑا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
امن و امان کی صورتحال
انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میں کسی بڑے فوجی آپریشن کی باتیں درست نہیں، البتہ دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری رہتے ہیں، جن کے نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایئر ٹریفک کنٹرول کو فضائی حدود کی کڑی نگرانی کی ہدایت
وزیراعلیٰ سے اپیل
ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لوگوں کے مسائل پر توجہ دیں، اور دہشتگردی ختم کرنے کے لیے وسائل بروئے کار لائیں۔
عوام کی توقعات
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ اب احتجاج کی کال سے لوگ تھک چکے ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے مسائل حل کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ جب بھی انتخابات ہوں گے تو لوگ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے، اس لیے خیبرپختونخوا حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے چاہییں۔








