اگر سیاست کرنی ہے تو ہم تیار ہیں لیکن پہلے 88 لاشوں کا جواب دیا جائے، کامران ٹیسوری
گورنر سندھ کی سانحہ گل پلازہ کے شہید آفتاب کے گھر تعزیت
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر سندھ کامران ٹیسوری سانحہ گل پلازہ کے شہید آفتاب کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے، جہاں انہوں نے شہید کے ورثاء سے اظہارِ تعزیت کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لواحقین کی مدد کرنا حکومت کا فرض ہے، لواحقین کو چکر نہ لگوائیں، کاؤنٹر بنا کر ان کی مدد کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: 90 دن کی بات وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی اپنی بات ہے اور پارٹی کا فیصلہ نہیں ، سلمان اکرم راجا
سیاسی جوابدہی کا مطالبہ
گورنر سندھ نے کہا کہ سیاست کرنا ہے تو ہم تیار ہیں لیکن پہلے 88 لاشوں کا جواب دیا جائے، کچھ بولتا ہوں تو ترجمانوں کا بیان آجاتا ہے، کہا جا رہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر بات نہ کی جائے۔ سانحہ گل پلازہ نے اس شہر کے رہنے والے لوگوں کے دل دہلا دیے ہیں، جو کچھ وہاں ہوا اس پر سیاست نہیں کر رہے، لیکن یہ کون سی بات ہے کہ بات نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: غلط انجکشن لگنے سے دس ماہ کی بچی جاں بحق
سانحے کی وجوہات اور عوامی ذمہ داری
انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ مٹی ڈالو دوسرے سانحے کا انتظار کرو، 47 سال پہلے والی لیز نکال لی لیکن یہ نہیں پتہ چل رہا کہ آگ کیسے لگی، اس شہر میں رہنے والے کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ میں مقدمہ عوام میں لے کر آؤں گا، ٹیکس کے پیسوں سے پیسے دے رہے ہو، کون سا اپنی جیب سے دے رہے ہو، سانحہ گل پلازہ میں جو شہید ہوا اس کے بچوں کی تعلیم کی ذمے داری لیتا ہوں۔ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آگ کیوں نہیں بجھی؟ کون کب پہنچا؟ ریسکیو آپریشن کب شروع ہوا؟
مقامی انتظامیہ کی ناکامی
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کون اس کوتاہی کا ذمے دار ہے؟ بس یہ دیکھنا ہے، جتنے لواحقین ہیں ان کے گھر جاؤں گا، میرے پاس سوٹ کیسز ہیں جن میں ثبوت ہیں، ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہیں بن رہا، گھر کا چولہا نہیں جل رہا۔ آئیں اپنی جیب سے پیسے دینے کا اعلان کریں، میرے ملک کا حصہ لاہور ہے، وہاں انتظامیہ پرفارم کر رہی ہے، یہاں کچھ ہو ہی نہیں رہا ہے، آپ مشورہ کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔







