فوجداری انصاف میسر نہ کرنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گواہوں کی زندگی کو جرائم پیشہ لوگوں کے ہاتھوں خطرات لاحق رہتے ہیں۔

مصنف کی معلومات

مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 288

یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں جوہری مذاکرات کا آج ہونے والا دور مکمل ہوگیا

فوجداری انصاف کی اہمیت

فوجداری قانون کے ماہر سپریم کورٹ کے وکیل سید فیروز شاہ گیلانی نے کہا کہ امن اور انصاف کے حوالے سے فوجداری انصاف ہر ملک کی بنیادی ضرورت ہوتا ہے۔ فوجداری نظام انصاف کو کامیاب بنانے کے لیے نفاذ قانون سے متعلق اداروں کی نگرانی اور محاسبہ اور عدالت تینوں کو مربوط اور مضبوط بنانا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ویوو کا نیا سمارٹ فون V40e 5G اب پاکستان میں دستیاب

گواہوں کی مشکلات

فوجداری انصاف میسر نہ کرنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گواہوں کی زندگی کو جرائم پیشہ لوگوں کے ہاتھوں خطرات لاحق رہتے ہیں اور کسی بھی جرم کے حقیقی گواہ پولیس اور عدالت کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ کراچی کا قتل عام اس کی بہترین مثال ہے۔ یہاں تک کہ کراچی سے متعلق سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود فوجداری نظام انصاف کی خامیوں کے باعث نہ تو اصل مجرم پکڑے جا سکے اور نہ ہی کسی کو عبرتناک سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجا نے علیمہ خان کی کس بات پر دلبرداشتہ ہو کر سیکرٹری جنرل کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا؟

نظام میں تبدیلی کی ضرورت

سید فیروز شاہ گیلانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ فوجداری انصاف کو صحیح معنوں میں مؤثر بنانے کے لیے ہمیں موجودہ نظام ترک کر کے امریکہ اور انگلستان کے نظام کو اپنانا ہو گا۔ ان ممالک میں پولیس کو کوئی مرکزی ادارہ کنٹرول نہیں کرتا بلکہ ہر ٹاؤن اور کاؤنٹی کی اپنی پولیس ہوتی ہے اور اس کے عہدیدار وہاں کے لوگ خود منتخب کرتے ہیں اور انہیں غیر تسلی بخش کارکردگی پر مقررہ مدت میں عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی متحد ہو کر مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، سراج الحق

عدالتی نظام میں شمولیت

اسی طرح عدالتی نظام انصاف میں بھی اہل عوامی افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو عدالت میں جج کے ساتھ بطور جیوری مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔ اس طرح نظام عدل میں سیاسی دباؤ، اثر رسوخ اور بدعنوانی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افریقی ملک چاڈ کا ٹرمپ کی پابندی پر دوٹوک جواب، امریکیوں کے ویزے روک دیے

انصاف کی جانب مثبت پیش قدمی

انہوں نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف کو امریکی طرز پر ازسرنو استوار کیا جائے تو صحیح معنوں میں انصاف کے حصول کی جانب مثبت پیش قدمی ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا اعزاز

پاکستان میں فوجداری نظام کی حالت

پروفیسر نصیر اے چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں 136 اضلاع، 510 تحصیلیں، 500 شہری علاقے اور 50660 دیہی علاقہ جات ہیں جبکہ ملک بھر میں تھانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ ایک تھانہ اوسطاً ڈیڑھ لاکھ آبادی کو فوجداری انصاف مہیا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفر گڑھ: طلبہ کو اسکول لے جانے والے رکشہ ریس لگاتے ہوئے آپس میں ٹکرا گئے، طالبہ جاں بحق، 13 زخمی

مستقبل کی سمت

ہر سال پاکستان کی آبادی میں 35 لاکھ 60 ہزار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ تھانوں کی تعداد اتنی کی اتنی ہے۔ پروفیسر مشکور صدیقی نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف جمہوری نظام کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اس لیے محض فوجداری نظام انصاف میں تبدیلی سے مثبت نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے امریکہ سے جنگ بند کرانے کی اپیل کی: برطانوی نشریاتی ادارہ

وکلاء کی اخلاقی ذمہ داری

سٹیزن کونسل کے سیکرٹری اور قانون دان ظفر علی راجا نے کہا کہ وکلاء کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اگر انہیں یہ یقین ہو جائے کہ ان کا موکل جرم میں ملوث ہے تو وہ اس مقدمے کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکی برطانوی فوجی اڈے ڈیگو گارشیا پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے

سیاسی قیادت کی خامیاں

آخر میں سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت نے فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات کے ضمن میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی لیڈر کے سیاسی ڈی این اے میں مذاکرات کی گنجائش نہیں، خواجہ آصف

تھنک ٹینک کی تجویز

اس مقصد کے لیے ممتاز قانون دانوں، سابق جج حضرات اور اچھی شہرت رکھنے والے ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل ایک تھنک ٹینک یا کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور اس تھنک ٹینک کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کے ذریعے اصلاحات کا نفاذ ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم ہمیں غلام بنانے کا حربہ ہے، بیرسٹر سلمان اکرم راجا

مذاکرے میں شرکت

مذاکرہ سے رانا سعید احمد ایڈووکیٹ، تحریک انصاف کی لبنیٰ ملک، سماجی رہنما محمد رمضان میو نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...