فوجداری انصاف میسر نہ کرنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گواہوں کی زندگی کو جرائم پیشہ لوگوں کے ہاتھوں خطرات لاحق رہتے ہیں۔
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 288
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے گورننس میں بہتری کے لیے اے آئی کو باضابطہ پالیسی کا حصہ بنا دیا
فوجداری انصاف کی اہمیت
فوجداری قانون کے ماہر سپریم کورٹ کے وکیل سید فیروز شاہ گیلانی نے کہا کہ امن اور انصاف کے حوالے سے فوجداری انصاف ہر ملک کی بنیادی ضرورت ہوتا ہے۔ فوجداری نظام انصاف کو کامیاب بنانے کے لیے نفاذ قانون سے متعلق اداروں کی نگرانی اور محاسبہ اور عدالت تینوں کو مربوط اور مضبوط بنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب رنگ باز موڈ میں ہوتے ہیں تو فیک AI کی ویڈیو شیئر کر دیتے ہیں اور معذرت خواہ بھی نہیں ہوتے،مزمل اسلم
گواہوں کی مشکلات
فوجداری انصاف میسر نہ کرنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گواہوں کی زندگی کو جرائم پیشہ لوگوں کے ہاتھوں خطرات لاحق رہتے ہیں اور کسی بھی جرم کے حقیقی گواہ پولیس اور عدالت کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ کراچی کا قتل عام اس کی بہترین مثال ہے۔ یہاں تک کہ کراچی سے متعلق سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود فوجداری نظام انصاف کی خامیوں کے باعث نہ تو اصل مجرم پکڑے جا سکے اور نہ ہی کسی کو عبرتناک سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولنگر میں لرزہ خیز واقعہ: شوہر نے ساتھیوں سمیت جھونپڑی کو مبینہ طور پر آگ لگا کر بیوی کو زندہ جلا دیا
نظام میں تبدیلی کی ضرورت
سید فیروز شاہ گیلانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ فوجداری انصاف کو صحیح معنوں میں مؤثر بنانے کے لیے ہمیں موجودہ نظام ترک کر کے امریکہ اور انگلستان کے نظام کو اپنانا ہو گا۔ ان ممالک میں پولیس کو کوئی مرکزی ادارہ کنٹرول نہیں کرتا بلکہ ہر ٹاؤن اور کاؤنٹی کی اپنی پولیس ہوتی ہے اور اس کے عہدیدار وہاں کے لوگ خود منتخب کرتے ہیں اور انہیں غیر تسلی بخش کارکردگی پر مقررہ مدت میں عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری، عثمان انور ڈی جی ایف آئی اے تعینات
عدالتی نظام میں شمولیت
اسی طرح عدالتی نظام انصاف میں بھی اہل عوامی افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو عدالت میں جج کے ساتھ بطور جیوری مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔ اس طرح نظام عدل میں سیاسی دباؤ، اثر رسوخ اور بدعنوانی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پولیس ہائی الرٹ، عدالتوں اور ججز کے رہائشی علاقوں کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی
انصاف کی جانب مثبت پیش قدمی
انہوں نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف کو امریکی طرز پر ازسرنو استوار کیا جائے تو صحیح معنوں میں انصاف کے حصول کی جانب مثبت پیش قدمی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 6 روز کے دوران ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 26 ہزار سے زائد ای چالان کٹ گئے
پاکستان میں فوجداری نظام کی حالت
پروفیسر نصیر اے چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں 136 اضلاع، 510 تحصیلیں، 500 شہری علاقے اور 50660 دیہی علاقہ جات ہیں جبکہ ملک بھر میں تھانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ ایک تھانہ اوسطاً ڈیڑھ لاکھ آبادی کو فوجداری انصاف مہیا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہینے گزر گئے مگر بشریٰ بی بی کی فیملی کو اب تک ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، نعیم حیدر پنجوتھہ
مستقبل کی سمت
ہر سال پاکستان کی آبادی میں 35 لاکھ 60 ہزار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ تھانوں کی تعداد اتنی کی اتنی ہے۔ پروفیسر مشکور صدیقی نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف جمہوری نظام کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اس لیے محض فوجداری نظام انصاف میں تبدیلی سے مثبت نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر آپ اپنا ایئر بیس نہیں بچا سکتے تو عوام کو کیسے بچائیں گے؟ ہندوستانی چینل کی اپنی حکومت سے سوال
وکلاء کی اخلاقی ذمہ داری
سٹیزن کونسل کے سیکرٹری اور قانون دان ظفر علی راجا نے کہا کہ وکلاء کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اگر انہیں یہ یقین ہو جائے کہ ان کا موکل جرم میں ملوث ہے تو وہ اس مقدمے کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: تقرری و تبادلوں کے منتظر سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری
سیاسی قیادت کی خامیاں
آخر میں سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت نے فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات کے ضمن میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کے نومنتخب صدر سید محسن گیلانی کی اہم ملاقات
تھنک ٹینک کی تجویز
اس مقصد کے لیے ممتاز قانون دانوں، سابق جج حضرات اور اچھی شہرت رکھنے والے ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل ایک تھنک ٹینک یا کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور اس تھنک ٹینک کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کے ذریعے اصلاحات کا نفاذ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا۔
مذاکرے میں شرکت
مذاکرہ سے رانا سعید احمد ایڈووکیٹ، تحریک انصاف کی لبنیٰ ملک، سماجی رہنما محمد رمضان میو نے بھی خطاب کیا۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








