فوجداری انصاف میسر نہ کرنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گواہوں کی زندگی کو جرائم پیشہ لوگوں کے ہاتھوں خطرات لاحق رہتے ہیں۔
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 288
یہ بھی پڑھیں: فیملی پنشن لینے والے اور نئے پنشنرز بھی اضافے سے مستفید ہوں گے، پنشن میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری
فوجداری انصاف کی اہمیت
فوجداری قانون کے ماہر سپریم کورٹ کے وکیل سید فیروز شاہ گیلانی نے کہا کہ امن اور انصاف کے حوالے سے فوجداری انصاف ہر ملک کی بنیادی ضرورت ہوتا ہے۔ فوجداری نظام انصاف کو کامیاب بنانے کے لیے نفاذ قانون سے متعلق اداروں کی نگرانی اور محاسبہ اور عدالت تینوں کو مربوط اور مضبوط بنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ 2025 کا ممکنہ شیڈول سامنے آگیا
گواہوں کی مشکلات
فوجداری انصاف میسر نہ کرنے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں گواہوں کی زندگی کو جرائم پیشہ لوگوں کے ہاتھوں خطرات لاحق رہتے ہیں اور کسی بھی جرم کے حقیقی گواہ پولیس اور عدالت کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہیں۔ کراچی کا قتل عام اس کی بہترین مثال ہے۔ یہاں تک کہ کراچی سے متعلق سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود فوجداری نظام انصاف کی خامیوں کے باعث نہ تو اصل مجرم پکڑے جا سکے اور نہ ہی کسی کو عبرتناک سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان، ایک ہی گھر کے 13 افراد قتل کرنے والے مجرم کو ہزاروں لوگوں کے سامنے سزائے موت دے دی گئی
نظام میں تبدیلی کی ضرورت
سید فیروز شاہ گیلانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ فوجداری انصاف کو صحیح معنوں میں مؤثر بنانے کے لیے ہمیں موجودہ نظام ترک کر کے امریکہ اور انگلستان کے نظام کو اپنانا ہو گا۔ ان ممالک میں پولیس کو کوئی مرکزی ادارہ کنٹرول نہیں کرتا بلکہ ہر ٹاؤن اور کاؤنٹی کی اپنی پولیس ہوتی ہے اور اس کے عہدیدار وہاں کے لوگ خود منتخب کرتے ہیں اور انہیں غیر تسلی بخش کارکردگی پر مقررہ مدت میں عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تہران میں افغان سابق اعلیٰ پولیس افسر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک
عدالتی نظام میں شمولیت
اسی طرح عدالتی نظام انصاف میں بھی اہل عوامی افراد کو شامل کیا جاتا ہے جو عدالت میں جج کے ساتھ بطور جیوری مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔ اس طرح نظام عدل میں سیاسی دباؤ، اثر رسوخ اور بدعنوانی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کے لیے ’’ٹف ٹائم‘‘۔۔۔ امریکہ سے تجارتی معاہدے کے خلاف بھارتی کسانوں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا، کل ہڑتال ہوگی
انصاف کی جانب مثبت پیش قدمی
انہوں نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف کو امریکی طرز پر ازسرنو استوار کیا جائے تو صحیح معنوں میں انصاف کے حصول کی جانب مثبت پیش قدمی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چودھری شجاعت حسین نے ملاقات کے دوران جس محبت اور مروت سے اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا تھا میری جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو فوراً خوشنودی حاصل کرتا
پاکستان میں فوجداری نظام کی حالت
پروفیسر نصیر اے چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں 136 اضلاع، 510 تحصیلیں، 500 شہری علاقے اور 50660 دیہی علاقہ جات ہیں جبکہ ملک بھر میں تھانوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ ایک تھانہ اوسطاً ڈیڑھ لاکھ آبادی کو فوجداری انصاف مہیا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ٹیم کی آج ہونے والی پریس کانفرنس منسوخ کر دی گئی
مستقبل کی سمت
ہر سال پاکستان کی آبادی میں 35 لاکھ 60 ہزار افراد کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ تھانوں کی تعداد اتنی کی اتنی ہے۔ پروفیسر مشکور صدیقی نے کہا کہ فوجداری نظام انصاف جمہوری نظام کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اس لیے محض فوجداری نظام انصاف میں تبدیلی سے مثبت نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عبیرہ ضیاء کی پارلیمنٹ لاجز میں رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا سے ملاقات، اوورسیز نوجوانوں کی فلاح و بہبود پر مثبت تبادلہ خیال
وکلاء کی اخلاقی ذمہ داری
سٹیزن کونسل کے سیکرٹری اور قانون دان ظفر علی راجا نے کہا کہ وکلاء کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اگر انہیں یہ یقین ہو جائے کہ ان کا موکل جرم میں ملوث ہے تو وہ اس مقدمے کی پیروی سے دستبردار ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا 19 واں اجلاس، وزیراعظم کسی بھی نشست میں شریک نہیں ہوئے، اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی رہا،فافن
سیاسی قیادت کی خامیاں
آخر میں سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت نے فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات کے ضمن میں کوئی ٹھوس کام نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی کابینہ کا یو اے ای سے یمن کی STC کو فوجی و مالی مدد روکنے کا مطالبہ
تھنک ٹینک کی تجویز
اس مقصد کے لیے ممتاز قانون دانوں، سابق جج حضرات اور اچھی شہرت رکھنے والے ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسران پر مشتمل ایک تھنک ٹینک یا کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے اور اس تھنک ٹینک کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کے ذریعے اصلاحات کا نفاذ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی باشندے کے گھر سے پونے دو کروڑ کی چوری کرنے والے ملزمان گرفتار
مذاکرے میں شرکت
مذاکرہ سے رانا سعید احمد ایڈووکیٹ، تحریک انصاف کی لبنیٰ ملک، سماجی رہنما محمد رمضان میو نے بھی خطاب کیا۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








