ٹرمپ کل مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، بھارت کو خدشہ۔
بھارت کو ٹرمپ کی ممکنہ پیشکش کا خدشہ
لندن (ویب ڈیسک) بھارت کو خدشہ ہے کہ کل ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی وفد کی متنازعہ صومالیہ سے صومالی لینڈ کے صدر سے ملاقات، بربیرا کی بندرگاہ اور فضائی اڈے کا دورہ
غزہ میں بورڈ آف پیس کی تشکیل
برطانوی میڈیا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بورڈ آف پیس میں بھارت کو دعوت دی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں۔ غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم کرنا اور عبوری حکومت کی نگرانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرل فرینڈ کو سوٹ کیس میں چھپا کر بوائز ہاسٹل سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی, ویڈیو وائرل
بورڈ آف پیس میں عالمی شمولیت
بورڈ آف پیس میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات نے شمولیت قبول کی، جبکہ 59 ممالک نے اس پر دستخط کیے۔ ڈیووس میں ہوئی تقریب میں 19 ممالک کی نمائندگی موجود تھی۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈیووس میں نریندر مودی کو دعوت دی گئی تھی، لیکن وہ شریک نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سرکاری دورے پر روس پہنچ گئے
بھارت کی شمولیت کے ممکنہ اثرات
برطانوی میڈیا کے مطابق، بھارت کے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ کل کو ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ میں لاسکتے ہیں۔ تقریب سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ صرف امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر بھی پھیلاسکتے ہیں، جیسے ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا۔
سابق سفیروں کی رائے
بھارت کے سابق سفیر اکبر الدین کے مطابق بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہوسکتا ہے اور شامل ہونے سے بھارت بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
سابق بھارتی سفیر رنجیت رائے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی کوئی مدت مقرر نہیں، اور یہ غزہ کے باہر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔








