سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم اور حتمی اصول طے کر دیا
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم اور حتمی اصول طے کر دیا،عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث ازخود مالک تصور ہوں گے اور نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما فرخ جاوید مون بھی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے
سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دے دیا، سندھ ہائیکورٹ نے کرایہ داروں کوکانیں خالی کر کے ساٹھ دن کے اندر مالکان کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی اطالوی ہم منصب سے ملاقات، 10,500 ورک ویزوں پر اتفاق
واضح کردہ احکامات
سندھ ہائیکورٹ نے کرایہ داروں کو کانیں خالی کرکے 60 دن میں مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس سنا، جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہیرڈز کے سابق ارب پتی مالک کے بھائی پر جنسی تشدد کے الزامات: ‘وہ مجھے اپنے بھائی کے ساتھ بانٹ رہے تھے’
عدالت کا موقف
سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ اصل مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس دے کر کرایہ اور بقایاجات ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا مگر قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا، نوٹس کے باوجود کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔ قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کے خلاف بے دخلی کی درخواست دائر کی، کرایہ داروں کا موقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں۔
قانونی وضاحتیں
سپریم کورٹ کے مطابق نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونا ادائیگی تصور نہیں ہوتا، قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے۔ جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔







