ریلوے پولیس نے گھر سے بھاگے 658 لڑکوں، لڑکیوں کو پکڑ کر ورثا کے حوالے کر دیا
ریلوے اسٹیشن پر بچوں کی آماجگاہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ریلوے اسٹیشن گھروں سے بھاگنے والے بچے بچیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ ریلوے پولیس نے 658 لڑکے لڑکیوں کو پکڑ کر ان کے ورثا کے حوالے کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 13 ارب روپے گرانٹ کی منظوری دیدی
بچوں کی گرفتاری کا اعداد و شمار
اعداد و شمار کے مطابق، ریلوے پولیس نے 2025 میں کل 658 لڑکے لڑکیوں کو پکڑا جن میں 413 لڑکے اور 245 لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ سب بچے گھر سے بھاگ کر مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر پہنچے تھے اور ان کو ان کے ورثہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس: عدالت نے ایف آئی اے کو کل تک پراسیکیوٹر نامزد کرنے کا حکم دیا
عمر کی تفصیل
ان بچے بچیوں میں 15 سے 18 سال کی عمر کی لڑکیاں جبکہ لڑکوں میں 14 سے 17 سال کی عمر کے لڑکے شامل ہیں۔ زیادہ تر 12 سے 15 سال کی عمر کے بچے لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں جو گھریلو حالات سے تنگ آ کر بھاگتے ہیں۔ اکثر یا تو اپنے عزیز و اقارب کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر ریلوے اسٹیشن پر ہی گزارا کرتے ہیں۔
بھاگنے کی وجوہات
ابتدائی معلومات اور تفتیش کے دوران زیادہ تر بچوں نے گھروں سے بھاگنے کی وجوہات میں بیروزگاری، کھانے پینے کی کمی، والدین کی ڈانٹ ڈپٹ، زبردستی کام کاج پر لگانے، سوشل میڈیا کی چکا چوند، اور بہتر زندگی کے حصول کی خواہش شامل کی ہیں۔








