ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کے خلاف اسلام آباد میں وکلاء کی ہڑتال اور احتجاجی ریلی
اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا بائیکاٹ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا سنانے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتوں کا 3 روزہ بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں چند طاقتور مزید طاقتور ہوتے چلے جا رہے ہیں، پاکستان پر وڈیروں، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا کنسورشیم مسلط ہے، نعیم الرحمان
ہڑتال کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد بار کونسل، ہائیکورٹ بار، اور ڈسٹرکٹ بار نے آج سے تین روزہ ہڑتالی کال دے رکھی ہے، اور وکلاء صرف ہنگامی کیسوں میں پیش ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 2005ء میں سپر پارسل ایکسپریس ملیر پل عبور کرتے ہوئے حادثہ
پولیس کی پابندیاں
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتوں میں پولیس کے داخلے پر پابندی بھی لگادی گئی ہے، جس کے بعد وکلاء نے کینٹین پر بیٹھے پولیس اہلکاروں کو نکال دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں پولیس کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑی بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہت ہوگیا، مشعال یوسفزئی کے خلاف ایکشن لیں گے، بیرسٹر گوہر
وکلاء کا احتجاج
وکلاء نے سیشن جج ایسٹ کی عدالت کے باہر احتجاج کیا، صدر بار ایسوسی ایشن نعیم گجر کی قیادت میں وکلاء وہاں پہنچے۔ وکلاء نے احاطہ کچہری کے اندر ریلی نکالی۔
یہ بھی پڑھیں: لندن: گھر کو آگ لگنے سے برٹش پاکستانی خاندان کے 4 افراد جاں بحق
وکلاء بشمول سپریم کورٹ بار کے عہدیداران
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی، ڈاکٹر بابر اعوان اور دیگر وکلاء نے احتجاج میں شرکت کی، جنہوں نے "وکلاء کو انصاف دو" کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔
ڈاکٹر بابر اعوان کا بیان
اس موقع پر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ "پہلے جج سڑک پر نکلے، اب وکیل سڑکوں پر نکلے ہیں۔ وکلاء کے خلاف ریاست گردی جاری ہے، جو سوسائٹی کیلئے نقصان دہ ہے۔" وکلاء نے ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر احتجاج ختم کر دیا۔








