انڈیا، سابق عاشق کی بیوی کو ایڈز کا انجیکشن لگانے والی خاتون گرفتار
چونکا دینے والا واقعہ
نئی دہلی (ویب ڈیسک) آندھرا پردیش کے ضلع کرنول میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون پر الزام ہے کہ اس نے اپنے سابق عاشق کی بیوی کو ایچ آئی وی سے متاثرہ انجکشن لگا دیا۔ پولیس نے اس معاملے میں چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن میں مرکزی ملزمہ، ایک نرس اور اس کے دو بالغ بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سیاسی پارٹی کے رہنما سیلاب کی تصاویر بنا بنا کر غیر ملکی سفرا کو بھجوا رہے ہیں، رضوان رضی کا دعویٰ
گرفتار ملزمان کی تفصیلات
این ڈی ٹی وی کے مطابق پولیس نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گرفتار ملزمان میں بی بویا واسندھرا عمر 34 سال، 40 سالہ کونگے جیوتھی جو آدونی کے ایک نجی اسپتال میں نرس ہے، اور اس کے دو بچے شامل ہیں، جن کی عمریں بیس سال کے قریب بتائی جا رہی ہیں۔ تمام ملزمان کو 24 جنوری کو حراست میں لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فائرنگ گاڑی پر ہورہی ہے تو فائر سیدھا ملزم کو ہی لگتا ہے نہ گاڑی نہ کسی اہلکار کو،لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ پولیس مقابلے کیخلاف درخواست نمٹا دی
وجوہات اور پس منظر
پولیس کا کہنا ہے کہ واسندھرا اپنے سابق عاشق کی شادی کسی اور خاتون سے ہونے کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔ اسی جزبہ رقابت کے تحت رنجش کے تحت خاتون نے دیگر افراد کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر ایک سازش تیار کی تاکہ اس جوڑے کو الگ کیا جا سکے۔ متاثرہ خاتون ایک ڈاکٹر ہیں اور کرنول کے ایک نجی میڈیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہوائی بازی کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ، قطر امریکہ سے 200 ارب ڈالرز کے 160 ہوائی جہاز خریدے گا
حادثہ اور اس کے بعد
پولیس کے مطابق 9 جنوری کو دوپہر تقریباً ڈھائی بجے متاثرہ ڈاکٹر ڈیوٹی کے بعد لنچ کے لیے اسکوٹر پر گھر واپس جا رہی تھیں۔ اسی دوران ونايک گھاٹ کے قریب کے سی کینال کے پاس ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے جان بوجھ کر ان کے اسکوٹر کو ٹکر مار دی، جس سے وہ گر گئیں اور زخمی ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن ممبر کے لئے سروپ اعجاز کا نام بھجوا دیا
مبینہ حملہ
الزام ہے کہ حادثے کے فوراً بعد واسندھرا موقع پر پہنچی اور مدد کے بہانے متاثرہ خاتون کے قریب آئی۔ پولیس کے مطابق آٹو رکشہ میں بٹھانے کی کوشش کے دوران واسندھرا نے مبینہ طور پر انہیں ایچ آئی وی سے متاثرہ انجکشن لگا دیا۔ جب متاثرہ خاتون نے شور مچایا تو ملزمہ وہاں سے فرار ہو گئی۔ تفتیش میں پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان نے ایک سرکاری اسپتال سے ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے خون کے نمونے حاصل کیے تھے۔ بتایا گیا کہ نرس نے یہ کہہ کر خون کے نمونے لیے کہ وہ تحقیق کے لیے درکار ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ خون بعد میں ایک ریفریجریٹر میں محفوظ رکھا گیا اور پھر حملے کے دوران استعمال کیا گیا۔
شکایت اور قانونی کارروائی
متاثرہ خاتون کے شوہر، جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، نے 10 جنوری کو کرنول تھرڈ ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے بھارتی قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا اور تفتیش کے بعد ملزمان کو گرفتار کر لیا۔








