پگھل نہ جائے کہیں یوں ہی برف مہلت کی۔۔۔
اجتناب اور اضطرار
یہ اجتناب مرے اضطرار سے تو نہیں
گریز پائی عدم اعتبار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: جمہوری لوگوں کی بدقسمتی کہ بڑوں کی ریس یہی ہے کہ سر، میں زیادہ خدمت کروں گا: ایمل ولی خان
غمِ روزگار
درختِ وقت سے اپنے لیے چُرا کچھ برگ
مفر کبھی بھی غمِ روزگار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ
انتظار کی مہلت
پگھل نہ جائے کہیں یوں ہی برف مہلت کی
میں تھکنے والا ترے انتظار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا تمام سکولوں اور تعلیمی اداروں کے باہر ڈیجیٹل نگرانی کے لئے کیمرے نصب کرنے کا حکم
محبت کا مدار
وہ مثل شمس، زمیں کی طرح ہے عشق مرا
نکلنے والا میں اپنے مدار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: ہم سو رہے تھے کہ اچانک زلزلہ محسوس ہوا، پاکستانی شہریوں نے بھارتی حملے کا آنکھوں دیکھا حال بتادیا
بادِ مخالف کا زور
یہ کیا کہ بادِ مخالف میں اب نہیں وہ زور
بھٹک گیا میں تری رہ گزار سے تو نہیں
سانس ہجر میں راغب
اُکھڑنے لگتی ہے کیوں سانس ہجر میں راغب
بحال تارِ نفس بوے یار سے تو نہیں








