پگھل نہ جائے کہیں یوں ہی برف مہلت کی۔۔۔
اجتناب اور اضطرار
یہ اجتناب مرے اضطرار سے تو نہیں
گریز پائی عدم اعتبار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ خان کی بھائی سے ملاقات کس کے رابطوں کے باعث ممکن ہوئی؟ذرائع نے نام بتا دیا
غمِ روزگار
درختِ وقت سے اپنے لیے چُرا کچھ برگ
مفر کبھی بھی غمِ روزگار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: ساجد خان نے گھر بلا کر کپڑے اتارنے کا کہا،اداکارہ نوینا بولے نے ہدایتکار پر سنگین الزام عائد کردیا
انتظار کی مہلت
پگھل نہ جائے کہیں یوں ہی برف مہلت کی
میں تھکنے والا ترے انتظار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس وصولی کا رواں مالی سال کا ٹارگٹ آسان نہیں مگر ممکن ہے: چیئرمین ایف بی آر
محبت کا مدار
وہ مثل شمس، زمیں کی طرح ہے عشق مرا
نکلنے والا میں اپنے مدار سے تو نہیں
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو اپنے گھر میں پھر شکست، جنوبی افریقہ نے 25 سال بعد ٹیسٹ سیریز جیت لی
بادِ مخالف کا زور
یہ کیا کہ بادِ مخالف میں اب نہیں وہ زور
بھٹک گیا میں تری رہ گزار سے تو نہیں
سانس ہجر میں راغب
اُکھڑنے لگتی ہے کیوں سانس ہجر میں راغب
بحال تارِ نفس بوے یار سے تو نہیں








