لاہور ہائیکورٹ نے بسنت کی اجازت کے خلاف درخواست پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی جی پی آر افسران کو طلب کر لیا
بہت بڑی فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ نے بسنت کی اجازت کے خلاف دائر درخواست پر ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈی جی پی آر سمیت مختلف محکموں کے افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے ہدایت کی دوسرے صوبوں سے خطرناک دھاگے کی درآمد روکی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں کرمنلز کا گروہ ہے، ڈی چوک صرف لاشیں لینے آئے تھے: مریم اورنگزیب
عدالت کی سماعت
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے بسنت درخواستوں پر سماعت کی۔ اسپشل سیکرٹری ہوم نے عدالت میں بتایا کہ پنجاب میں بسنت صرف لاہور میں ہی منائی جا رہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی نقصان سے بچانا بھی حکومتی ذمہ داری ہے۔ آگ لگنے جیسے واقعات ہو رہے ہیں، ایسے واقعات روکنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ چھوٹے بچوں پر مقدمات ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ اسپشل سیکرٹری ہوم نے بتایا کہ چھوٹے بچوں کو صرف جرمانہ کیا جاتا ہے۔ ستر کلینک آن ویلز فیلڈ میں ہوں گے، تمام اسپتالوں میں خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ عدالت نے اٹھائیس جنوری کو مختلف محکموں کے افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔
سیشن کورٹ کی درخواست
دوسری طرف لاہور کے وکیل نے سیشن کورٹ کی چھت مانگ لی، سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ نے درخواست خارج کر دی۔ سیشن جج نے صدر لاہور بار اور سی سی پی او لاہور کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ سیشن کورٹ کا احاطہ انتہائی حساس اور سیکیورٹی زون ہے۔ ایسی تقریبات کی اجازت دینا سنگین سیکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔








