مذاکرات کی پہلی شرط عمران خان سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے، اسد قیصر
اسد قیصر کے حکومت سے مذاکرات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے حکومت سے مذاکرات کو ایک بار پھر عمران خان کی مشاورت سے جوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ کی زیادتی کا شکار ہونیوالی بچی سے ملاقات، انصاف کی یقین دہانی
اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی اہمیت
جیو نیوز کے مطابق اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ایک آئینی اور قانونی ضرورت تھی، لیڈر آف دی اپوزیشن کے بغیر اسمبلی چل نہیں سکتی۔ لیڈرآف دی ہاؤس اور اپوزیشن کی یکساں حیثیت ہے، اور آئین اس پر واضح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی گرفتاری سے رہائی تک 100 روز خاموشی کے بعد بڑا اعلان
عمران خان کی مشاورت کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کیا نوازشریف کے بغیر مسلم لیگ ن کوئی فیصلہ کر سکتی ہے؟ کیا آصف زرداری یا بلاول بھٹو کے بغیر پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی؟ یہ ناسمجھی ہوگی کہ عمران خان سے مشاورت یا ملاقات کے بغیر ہی کوئی فیصلہ ہو۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ جب تک ملاقات نہیں ہوگی، تب تک کوئی بھی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی۔ مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے۔
مائنز اینڈ منرلز بل پر خیالات
انہوں نے مزید کہا کہ مائنز اینڈ منرلز سے متعلق بل ہماری سیاسی سوچ اور بیانیہ کے خلاف نہیں ہوگا۔ ہمارے صوبے کے اختیار سے بڑھ کر کوئی بھی چیز بل میں نہیں ہوگی۔ صوبے کو کمزور یا پوزیشن کمپرومائز کرنے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوگا۔
جو بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے اسی کے مطابق یہ بل پاس ہوگا۔ اگر دائیں بائیں سے کوئی کوشش ہوتی ہے تو ہم ایسا بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔








