ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکی طیارہ بردار جہاز مشرقِ وسطیٰ پہنچ گیا
ایران کے ساتھ کشیدگی اور امریکی بحریہ کا اقدام
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی بحریہ کا جدید طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہم لنکن خطے میں پہنچ گیا ہے، جس سے علاقے میں امریکی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، مال بردار ٹرکوں کو لوٹنے اور ڈرائیورز کو اغوا کرنے والے 6 ملزم گرفتار
امریکا کی فوجی حکمت عملی
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق یہ کیریئر اسٹرائیک گروپ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے، جہاں اس کا مقصد خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ سینٹرل کمانڈ نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سبزی، پھل اور دیگر چیزیں فروخت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دےدیا
صدر ٹرمپ کی جانب سے بیان
العربیہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی سمت ایک “بحری آرماڈا” روانہ کی جا رہی ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ انہیں طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے یکساں بجلی ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا
مظاہروں اور کشیدگی کا پس منظر
یہ جنگی بحری جہاز اس ماہ کے آغاز میں ایشیا پیسیفک خطے سے مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کیے گئے تھے، جب ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ ٹرمپ نے متعدد بار ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کے قتل عام کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا، تاہم حالیہ دنوں میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے کم ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جس مسافر بس میں ڈیش کیم نہیں ہوگا وہ بس روڈ پر نہیں آئے گی، ہر بس میں 2 ڈرائیوروں کا ہونا لازمی ہوگا، موٹروے پولیس
امریکی فوج کی موجودہ حکمت عملی
امریکی فوج ماضی میں بھی کشیدگی کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں اضافی افواج تعینات کرتی رہی ہے، جنہیں عموماً دفاعی نوعیت کا اقدام قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ برس ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی حملوں سے قبل بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی پیرول پر رہائی کی درخواست اعتراض لگا کر واپس کردی گئی
فوجی مشقیں اور فضائی طاقت
طیارہ بردار جہاز اور دیگر جنگی بحری جہازوں کے علاوہ پینٹاگون نے خطے میں جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام بھی منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
امریکی فوج نے ہفتے کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی فوجی مشق بھی کرے گی، جس کا مقصد فضائی طاقت کی تعیناتی، پھیلاؤ اور طویل المدتی جنگی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔
ایران کی دھمکیاں
ادھر ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ایران پر کسی بھی حملے کو “ہم پر مکمل جنگ” کے مترادف سمجھا جائے گا۔








