مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کو فروغ دیا جا سکتا ہے: شیری رحمان
شیری رحمان کا بڑا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کو بڑھانا مشکل حالات کے باوجود ممکن ہے۔ مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار، ڈیلی پاکستان کے یوٹیوب چینل کے بعد فیس بک پیج بھی بلاک کردیا
قابل تجدید توانائی کی موجودہ صورتحال
’’جنگ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے آلودگی سے پاک انرژی کے عالمی دن پر بیان دیا کہ گزشتہ مالی سال میں بجلی کی پیداوار میں 53 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہوا۔ عالمی تعاون، مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ: نابینا افراد کی درخواست پر پنجاب حکومت کے افسر کی رپورٹ سمیت طلبی
توانائی کی منتقلی کی اہمیت
توانائی کی منتقلی منصفانہ اور عوام کے مرکز پر ہونی چاہیے تاکہ ماحولیاتی انصاف قائم رہے۔ صاف توانائی نہ صرف آلودگی کم کرے گی بلکہ درآمدی ایندھن کے زرمبادلہ میں بھی کمی لائے گی۔
نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ کا چیلنج
سینیٹر شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ نئی انرجی پالیسی میں نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی تبدیلی شہریوں کے لیے صاف توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔








