مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کو فروغ دیا جا سکتا ہے: شیری رحمان
شیری رحمان کا بڑا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کو بڑھانا مشکل حالات کے باوجود ممکن ہے۔ مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیا مغربی سلسلہ کل سندھ میں داخل ہوگا، کراچی میں بارش کب ہوگی؟
قابل تجدید توانائی کی موجودہ صورتحال
’’جنگ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے آلودگی سے پاک انرژی کے عالمی دن پر بیان دیا کہ گزشتہ مالی سال میں بجلی کی پیداوار میں 53 فیصد حصہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہوا۔ عالمی تعاون، مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے ترقی پذیر ممالک میں صاف توانائی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عیدالفطر کی مبارک باد دیتے ہوئے قوم کے نام پیغام جاری کر دیا
توانائی کی منتقلی کی اہمیت
توانائی کی منتقلی منصفانہ اور عوام کے مرکز پر ہونی چاہیے تاکہ ماحولیاتی انصاف قائم رہے۔ صاف توانائی نہ صرف آلودگی کم کرے گی بلکہ درآمدی ایندھن کے زرمبادلہ میں بھی کمی لائے گی۔
نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ کا چیلنج
سینیٹر شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ نئی انرجی پالیسی میں نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی تبدیلی شہریوں کے لیے صاف توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔








