وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کے جج کے ریمارکس
اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ کے جج جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی پسماندہ کمیونٹیز کی جانب سے عالمی بینک کی کاوشوں پر خراج تحسین
او جی ڈی سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے او جی ڈی سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس پر سماعت کی۔ نیب کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ او جی ڈی سی ایل میں اوور اسٹاف بھرتیاں کی گئیں، سابق وزیر انور سیف اللہ کی جانب سے چیئرمین او جی ڈی سی ایل کو تقرری لیٹرز جاری کرنے کا کہا گیا، نوکریوں کے اپوائنٹمنٹ لیٹر بھی وفاقی وزیر کے آفس بھجوائے گئے، بھرتیوں کا طریقہ کار اشتہار کے ذریعے ہونا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گہری کھائیاں راستہ روکے کھڑی تھیں، عجیب لائن تھی جو محبوب کی زلفوں کی طرح اٹھکیلیاں کرتی کبھی اس طرف کبھی دوسری طرف بھاگی پھرتی۔
جسٹس کاکڑ کے خیالات
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے میں اوور بھرتیاں ہیں، وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جس پر نیب وکیل نے کہا کہ سول سرونٹ اگر احکامات ماننے سے انکار کرے تو اس پر عذاب آجانا ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ بادشاہ تو نہیں، بس آرڈر کر دیا ہے، ہر سرکاری ادارے میں اوور اسٹاف بھرتیاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیرپور، نواب شاہ اور روہڑی کے درمیان ایک عام سا ریلوے اسٹیشن
پی آئی اے اور دیگر اداروں کی صورتحال
جسٹس صلاح الدین پنور نے کہا کہ وزرا سے عوام نوکریاں تو مانگتے ہیں۔ سماعت کے دوران بتایا گیا کہ پی آئی اے میں اوور بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کرنا پڑی اور یہ بھرتیاں اُس وقت کی گئیں جب احتساب کمیشن کا قانون موجود نہیں تھا۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزیر سزا تو بھگت چکے ہیں۔
عدالت کی ہدایت
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے کہ سزا کا ایک داغ تو ہے اور پوچھا کہ کیا اتنا کافی نہیں کہ وزیر نے سزا پوری کر لی ہے۔ نیب کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ نظرثانی خارج کرکے اصل فیصلہ برقرار رکھا جائے۔ عدالت نے سابق وزیر کی نظر ثانی درخواست پر وکلا کو تیاری کی ہدایت کردی۔








